World
لیبیا میں انتخابات کے لیے نیا معاہدہ، کیا سیاسی تعطل ختم ہو سکے گا؟
لیبیا کے حریف دھڑوں نے انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاہم ملکی اداروں میں تقسیم اور قانونی خلا اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے باہمی عدم اعتماد کے باعث اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد تاحال غیریقینی ہے۔
لیبیا میں برسوں سے جاری سیاسی کشیدگی اور تقسیم کے شکار دھڑوں کے درمیان انتخابات کے انعقاد کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس پیشرفت کو ملک میں جمہوریت کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی کامیابی کے راستے میں اب بھی بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ معاہدے پر دستخط کرنے والے فریقین کے درمیان دہائیوں پر محیط عدم اعتماد اور اختیارات کی جنگ نے اس پورے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو متوازی حکومتیں اور مضبوط مسلح گروہ کام کر رہے ہیں، جن کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔
معاہدے کی تفصیلات کے مطابق ایک نیا انتخابی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا جس کا مقصد ملک میں طویل عرصے سے التوا کا شکار پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کا انعقاد ہے۔ تاہم، ملک کے سرکاری اداروں کے درمیان گہری تقسیم اور قانونی فریم ورک میں موجود واضح خلا اس پورے عمل کی شفافیت اور عملدرآمد کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ جب تک لیبیا کا عدالتی نظام اور انتخابی کمیشن خود کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد نہیں کرتے، تب تک انتخابات کا انعقاد ایک مشکل امتحان رہے گا۔ اکثر علاقوں میں کنٹرول رکھنے والے طاقتور دھڑے اس معاہدے کے تحت اپنی سیاسی حیثیت کو محفوظ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔
اس معاہدے کے باوجود عوامی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ عام لیبیائی شہری، جو برسوں سے بدامنی، معاشی بحران اور بنیادی سہولیات کے فقدان سے نبردآزما ہیں، اس نئی پیشرفت کو محض ایک سیاسی ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر فریقین نے مخلصانہ تعاون نہ کیا اور اقتدار کی منتقلی کے لیے ٹھوس ضمانتیں فراہم نہ کیں تو یہ معاہدہ ماضی کے دیگر سمجھوتوں کی طرح ناکام ہو سکتا ہے۔
آنے والے دن بہت اہم ہوں گے کیونکہ اب فریقین کو عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ معاہدے میں شامل قانونی شقوں کی تشریح اور ان پر عملدرآمد کے لیے تکنیکی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، جن کا کام انتخابات کے لیے راستہ ہموار کرنا ہوگا۔ لیبیا کے مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کیا وہاں کے رہنما اپنی ذاتی انا اور اقتدار کی ہوس کو پسِ پشت ڈال کر ایک متحد اور مستحکم ریاست کے قیام کے لیے حقیقی کوششیں کریں گے یا نہیں۔