LIVE
Loading Breaking News...

چین کی ونڈوز کو خیرباد کہنے کی مہم، سرکاری اداروں کو سخت ہدایات

News Image
چین نے اپنی وزارتِ ریاستی تحفظ کے ذریعے سرکاری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مائیکروسافٹ ونڈوز کو کمپیوٹرز سے ہٹا کر مقامی سافٹ ویئر اپنائیں۔ یہ اقدام غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے اور سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
چین نے اپنی تکنیکی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی سافٹ ویئر پر انحصار ختم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری اداروں کو مائیکروسافٹ ونڈوز کا استعمال ترک کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزارتِ ریاستی تحفظ کے زیر اہتمام جاری ہونے والے اس حکم نامے کے تحت، سرکاری دفاتر میں موجود ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز سے ونڈوز کو ہٹانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی سلامتی کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ڈیٹا اور نیٹ ورکس کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ پیش رفت چین کی اس طویل مدتی پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ اہم انفراسٹرکچر میں مقامی ٹیکنالوجی کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ اس نئے حکمنامے کے بعد سرکاری اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مائیکروسافٹ کے بجائے مقامی طور پر تیار کردہ آپریٹنگ سسٹمز پر منتقل ہوں۔ اس تبدیلی کے عمل کو طے شدہ وقت سے پہلے ہی تیز کر دیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ سائبر سیکیورٹی کے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف مائیکروسافٹ جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے لیے چین کی مارکیٹ میں مشکلات پیدا کرے گا بلکہ چینی سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے اپنے مقامی آپریٹنگ سسٹمز کو بہتر بنانے کا ایک بڑا موقع بھی ثابت ہو گا۔ تاہم، ونڈوز سے کسی اور پلیٹ فارم پر منتقلی تکنیکی اعتبار سے ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے لیے بڑی مقدار میں وسائل اور عملے کی تربیت کی ضرورت ہوگی۔ اس حکومتی فیصلے کے اثرات بین الاقوامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ چین کی جانب سے غیر ملکی ٹیکنالوجی کو ترک کرنا عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی جنگ کو مزید ہوا دے سکتا ہے۔ امریکی حکام اور چینی حکومت کے مابین ٹیکنالوجی کے شعبے میں جاری رقابت کے تناظر میں، یہ اقدام چین کی اپنی مقامی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سرکاری ادارے کتنی تیزی سے ونڈوز کے متبادل سافٹ ویئر اپناتے ہیں اور کیا یہ اقدام دیگر نجی اداروں پر بھی لاگو کیا جائے گا یا نہیں۔ فی الحال، چینی حکومت اپنے تمام اہم نیٹ ورکس کو ایک محفوظ اور مقامی کنٹرول کے تحت لانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔