World
نیوزی لینڈ میں سوشل میڈیا پر عمر کی حد کا قانون متعارف
نیوزی لینڈ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے لیے باقاعدہ قانون سازی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
نیوزی لینڈ کی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات کو روکنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سخت اقدام کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے قانون سازی کا عمل شروع کر دیا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ فیصلہ دنیا بھر میں ان ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد میں شامل ہونے کی ایک کوشش ہے جو نوجوانوں کو انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا ایپس کے مضر اثرات سے بچانا چاہتے ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کا بے جا استعمال بچوں کی ذہنی صحت اور سماجی رویوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ قانون وقت کی ضرورت بن چکا ہے۔
اس قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز پر عمر کی تصدیق کے لیے سخت حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں۔ اگر کوئی پلیٹ فارم 16 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دیتا ہے تو اس پر بھاری جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ قانون سازوں کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا ایپس میں موجود الگورتھم بچوں کو لت کا شکار بنا رہے ہیں، جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی اور خاندانی تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اقدام کو نیوزی لینڈ کے عوام اور والدین کی جانب سے کافی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جو طویل عرصے سے بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
تاہم، دوسری جانب ٹیکنالوجی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس قانون کے نفاذ کے طریق کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عمر کی درست تصدیق کرنا ایک چیلنج ہے اور اس سے رازداری کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف پابندی کافی نہیں ہے بلکہ بچوں کو ڈیجیٹل تعلیم اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے حوالے سے تربیت دینا زیادہ ضروری ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ اس قانون کو کس طرح موثر انداز میں نافذ کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے، سائبر بلنگ اور دیگر غیر اخلاقی مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
نیوزی لینڈ کی اس پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر بھی کافی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ آسٹریلیا اور کئی دیگر یورپی ممالک بھی پہلے ہی اس قسم کی قانون سازی پر کام کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اس قانون پر مزید بحث کی جائے گی اور اسے پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ ہر حال میں بچوں کے تحفظ کو ترجیح دے گی، چاہے اس کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنے کاروباری ماڈلز میں بڑی تبدیلیاں کیوں نہ کرنی پڑیں۔ یہ فیصلہ آنے والے وقت میں دنیا بھر میں سوشل میڈیا ریگولیشن کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔