LIVE
Loading Breaking News...

بنگلورو نجی اسکول فیس اور اساتذہ کی کم تنخواہ کا تنازع وائرل پوسٹ

News Image
بھارتی شہر بنگلورو میں نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں اور اساتذہ کی کم تنخواہوں سے متعلق ایک وائرل پوسٹ نے سوشل میڈیا پر شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاکھوں روپے فیس وصول کرنے والے اسکول اپنے اساتذہ کو گھریلو ملازمین سے بھی کم تنخواہ دے رہے ہیں۔
بھارتی شہر بنگلورو میں نجی اسکولوں کی جانب سے والدین سے لاکھوں روپے فیسوں کی مد میں وصول کیے جانے اور اساتذہ کو انتہائی کم تنخواہیں دیے جانے کے معاملے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی اور شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں تعلیمی اداروں کے اس تجارتی رویے پر کڑی تنقید کی گئی ہے، جس نے شہر میں تعلیم کے معیار اور اساتذہ کی معاشی حالت زار کو تشت از بام کر دیا ہے۔ وائرل ہونے والی پوسٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ بنگلورو کے نام نہاد بین الاقوامی اور نجی اسکول والدین سے سالانہ بنیادوں پر لاکھوں روپے فیس وصول کرتے ہیں، لیکن وہاں تدریسی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو ماہانہ محض 30 ہزار روپے کے قریب تنخواہ دی جاتی ہے۔ پوسٹ کے مطابق یہ رقم اکثر شہر میں کام کرنے والے گھریلو ملازمین کی کل آمدنی سے بھی کم ہے، جو مختلف گھروں میں کام کر کے اس سے زیادہ کما لیتے ہیں۔ اس وائرل تحریر کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور والدین کے درمیان تعلیمی نظام کی تجارتی کاری پر شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اسکول مالکان بھاری فیسیں وصول کر کے خود تو کروڑوں روپے کا منافع کما رہے ہیں لیکن اساتذہ کی مالی حالت اور ان کی محنت کی کوئی قدر نہیں کی جا رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب اساتذہ کو مناسب معاوضہ نہیں ملے گا تو اس سے تعلیم کے معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی اس بحث نے انتظامیہ اور تعلیمی پالیسی سازوں کی توجہ بھی اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کروائی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ نجی اسکولوں کے فیس اسٹرکچر اور اساتذہ کے لیے کم از کم تنخواہ کا ایک واضح معیار مقرر کیا جائے تاکہ اساتذہ کی عزتِ نفس اور معاشی استحکام کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔