LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں مسافر کم ہونے کے باوجود ہوائی کرایوں میں اضافہ کیوں؟

News Image
بھارت میں فضائی سفر کی رفتار سست ہونے اور مسافروں کی تعداد میں کمی کے باوجود ہوائی جہاز کے کرایوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اور انڈسٹری کے اعداد و شمار کے مطابق، اس کی بنیادی وجوہات میں بلند آپریشنل اخراجات اور ایوی ایشن سیکٹر کے مالیاتی چیلنجز شامل ہیں۔
بھارت کے ایوی ایشن سیکٹر میں ایک دلچسپ اور تشویشناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ایک طرف گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد میں سست روی اور کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف ہوائی ٹکٹوں کے دام مسلسل آسمان چھو رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی کے دوران گھریلو مسافروں کی ٹریفک میں سالانہ بنیادوں پر صرف صفر اعشاریہ چھ چار فیصد اضافہ ہوا، جو کہ گزشتہ پانچ سالوں میں سب سے سست رفتار ہے۔ اس کے علاوہ صرف جولائی کے مہینے میں مسافروں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً پانچ فیصد تک کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے برعکس، مسافروں کو ٹکٹ کے حصول کے لیے زیادہ قیمتیں چکانا پڑ رہی ہیں۔ ایوی ایشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تضاد کی بڑی وجہ ایئر لائنز کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور سپلائی چین کے مسائل ہیں۔ طیاروں کے پرزوں کی قلت، عملے کے اخراجات اور ہوائی جہازوں کے انجنوں کی دیکھ بھال کے بڑھتے ہوئے داموں نے ایئر لائن کمپنیوں پر مالی بوجھ بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ روایتی طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں تبدیلی بھی کرایوں کو بلند رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کمپنیوں کے لیے منافع بخش طریقے سے پروازیں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ کم مسافروں کے ساتھ بھی فکسڈ لاگت اتنی ہی رہتی ہے۔ لہذا، ایئر لائنز فی مسافر اوسط آمدنی بڑھانے کے لیے مہنگے ٹکٹ فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ مسافروں کی کم تعداد عام طور پر کرایوں میں کمی کا باعث بنتی ہے، لیکن اس بار سپلائی اور ڈیمانڈ کا یہ روایتی اصول ایوی ایشن انڈسٹری میں پسپا ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایئر لائنز اپنے آپ کو مالی خسارے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ایوی ایشن کے بنیادی اخراجات اور سپلائی چین کے مسائل حل نہیں ہوتے، مسافروں کو سستے سفر کی سہولت ملنا مشکل ہوگا۔ حکومت اور ایئر لائن انڈسٹری کے درمیان اس بحران سے نمٹنے کے لیے بات چیت جاری ہے تاکہ فضائی سفر کو دوبارہ عام آدمی کی پہنچ میں لایا جا سکے، تاہم فی الحال ٹکٹوں کی بلند قیمتیں مسافروں کے لیے ایک بڑا درد سر بنی ہوئی ہیں۔