Health
البزائمر کی تشخیص کے لیے خون کے ٹیسٹ کی منظوری
امریکی ادارے ایف ڈی اے نے البزائمر کی تشخیص میں مدد کے لیے ایک نئے خون کے ٹیسٹ کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ٹیسٹ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے البزائمر کے مرض کی تشخیص اور جانچ میں مدد کے لیے ایک نئے خون کے ٹیسٹ باضابطہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ یہ ٹیسٹ طبی شعبے میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو کہ دماغی تنزلی کے اس پیچیدہ مرض کی ابتدائی اور آسان تشخیص میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس نئی پیش رفت سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے تشخیص کا عمل کم تکلیف دہ اور زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔
یہ جدید بائیو مارکر ٹیسٹ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن میں تیار کی گئی جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیاری میں ماہرین اور محققین کی ایک طویل محنت شامل ہے، جس کی قیادت شان بیلارڈ اور ان کی ٹیم نے کی۔ یونیورسٹی کی اس تحقیق کو اب تجارتی اور طبی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر طبی برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ماضی میں البزائمر کی تشخیص کے لیے مہنگے اور پیچیدہ طریقہ کار استعمال کیے جاتے تھے، جن میں دماغ کے اسکین یا ریڑھ کی ہڈی کے سیال کا ٹیسٹ شامل ہوتا تھا۔ اب خون کے اس آسان ٹیسٹ کی دستیابی سے ڈاکٹروں کو مریضوں کی حالت کا اندازہ لگانے اور علاج کی منصوبہ بندی کرنے میں نمایاں آسانی ہوگی۔ اس سے علاج کے بروقت فیصلے کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
امید کی جا رہی ہے کہ یہ ٹیسٹ جلد ہی بڑے طبی مراکز اور اسپتالوں میں دستیاب ہوگا، جس سے دنیا بھر کے لاکھوں مریض مستفیض ہو سکیں گے۔ طبی سائنس دان اس منظوری کو البزائمر کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں اور مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔