LIVE
Loading Breaking News...

چینی روبوٹس نے توڑے یوسین بولٹ اور ہائی جمپ کے ریکارڈ

News Image
بیجنگ روبوٹ گیمز کے دوران جدید ہیومنائڈ روبوٹس نے حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسانوں کے دوڑ اور اونچی چھلانگ کے پرانے ریکارڈز کو پچھاڑ دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ کیا مستقبل میں روبوٹس ہر شعبے میں انسانوں سے آگے نکل جائیں گے۔
حالیہ بیجنگ روبوٹ گیمز کے دوران ہیومنائڈ روبوٹس نے رفتار اور چستی کے نئے اور حیرت انگیز سنگ ہائے میل عبور کر لیے ہیں۔ اس مقابلے کے دوران ایک جدید ترین روبوٹ نے سو میٹر کا فاصلہ محض 9.39 سیکنڈز میں طے کرکے دنیا کے تیز ترین انسان اور اولمپک چیمپئن یوسین بولٹ کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اس شاندار کامیابی نے روبوٹکس کی دنیا میں ایک نئی بحث چھوٹی ہے کہ مصنوعی ذہانت اور میکانیکل انجینئرنگ کس تیزی سے انسانی جسمانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ صرف دوڑ ہی نہیں بلکہ ایک اور روبوٹ نے شاندار جسمانی توازن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھڑے ہو کر اونچی چھلانگ لگانے کے مقابلوں میں بھی حیرت انگیز کارکردگی دکھائی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ روبوٹس اب صرف فیکٹریوں تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ پیچیدہ جسمانی حرکات میں بھی انسانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح کی تقریبات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ روبوٹکس انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور تحقیق کے نتائج اب عملی طور پر سامنے آرہے ہیں، جو مستقبل میں کھیلوں، صنعتی مزدوری اور دیگر شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ اس تمام صورتحال کے بعد ماہرینِ نفسیات اور سائنسدانوں کے درمیان یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انسان اب جسمانی اور ذہنی دونوں محاذوں پر مصنوعی ذہانت سے لیس مشینوں کے مقابلے میں پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ اگرچہ روبوٹس کی یہ ترقی سائنسی لحاظ سے ایک بہت بڑا سنگ میل ہے، لیکن یہ معاشرتی اور اخلاقی حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے جن پر آنے والے دنوں میں مزید بحث متوقع ہے۔