Business
امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کی قیمت میں کمی
بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ میں جمعہ کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کی قدر میں کمی دیکھی گئی اور یہ 6.7894 پر بند ہوا۔ اس معاشی پیش رفت کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں چینی معیشت اور کرنسی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں جمعہ کے روز ہونے والی ٹریڈنگ کے دوران چینی کرنسی یوآن کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر 6.7894 کی سطح پر آ گئی۔ اس تبدیلی نے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کی توجہ حاصل کر لی ہے، جو چین کی مانیٹری پالیسی اور اس کی کرنسی کی مجموعی سمت کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران چینی یوآن میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے، جس میں کبھی بہتری تو کبھی دباؤ کے آثار نمایاں رہے ہیں۔
دوسری جانب، معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب سے کرنسی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں یوآن کی مڈ پوائنٹ فکسنگ کے حوالے سے مارکیٹ کے تخمینوں میں بھی نمایاں فرق دیکھا گیا ہے، جو کہ گزشتہ چند مہنتوں کے دوران سب سے زیادہ وسیع فرق ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکام ملکی برآمدات اور معاشی رفتار کو سہارا دینے کے لیے کرنسی کی قدر میں توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔
بین الاقوامی تجارتی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں یوآن کی یہ حرکتیں عالمی تجارت پر بھی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کامرز بینک اور دیگر معروف مالیاتی اداروں کے ماہرین کے مطابق، چینی کرنسی آنے والے دنوں میں بتدریج تبدیلیوں سے گزر سکتی ہے کیونکہ عالمی معیشت میں افراط زر، شرح سود اور تجارتی تناؤ کے عوامل بدستور کارفرما ہیں۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ معاشی خطرے سے بچا جا سکے۔