LIVE
Loading Breaking News...

ٹروکیلن جزیرہ چوہوں سے پاک، پرندوں کی آبادی بحال

News Image
فرانسیسی عملے کی جانب سے سنہ 2005 میں ٹروکیلن جزیرے سے چوہوں کے مکمل خاتمے کے بعد وہاں کی ماحولیاتی صورتحال میں بڑی بہتری دیکھی گئی۔ اس اقدام کے نتیجے میں سمندری پرندوں کی آبادی دو گنا سے زیادہ ہو گئی اور کئی نئی نسلوں نے وہاں دوبارہ گھونسلے بنانا شروع کر دیے۔
ماحولیاتی تحفظ کی تاریخ میں ایک اہم کامیابی کے طور پر، سنہ 2005 میں فرانسیسی عملے نے بحر ہند میں واقع ٹروکیلن جزیرے کو چوہوں سے مکمل طور پر پاک کر دیا تھا۔ اس کٹھن اور اہم مشن کا بنیادی مقصد جزیرے کے نایاب اور حساس ایکو سسٹم کو بچانا تھا، جو غیر ملکی حملہ آور نسلوں کی وجہ سے شدید خطرے سے دوچار تھا۔ چوہوں کی موجودگی مقامی پودوں، کیڑوں اور خاص طور پر زمین پر انڈے دینے والے پرندوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی تھی، جس سے پورا ماحولیاتی توازن بگڑ گیا تھا۔ چوہوں کے خاتمے کے بعد جزیرے کی قدرتی بحالی کا عمل شروع ہوا جس کے انتہائی مثبت اور حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ اس کامیاب مہم کے دور رس اثرات مرتب ہوئے اور صرف چند سالوں کے اندر ہی جزیرے پر پرندوں کی زندگی میں انقلابی تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ سنہ 2013 تک، یعنی اس صفائی کے محض آٹھ سال بعد، مقامی بووبی پرندوں کی آبادی میں دو گنا سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، ماحولیاتی بہتری کی بدولت پانچ دیگر سمندری پرندوں کی اقسام نے بھی اس جزیرے پر واپسی کی اور وہاں دوبارہ اپنی نسل بڑھانے کے لیے اپنے ٹھکانے اور گھونسلے بنائے۔ سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، اس قسم کے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر انسانی مداخلت سے حملہ آور پرجیویوں کو ختم کر دیا جائے تو فطرت خود کو نہایت تیزی سے بحال کر لیتی ہے اور تباہ شدہ ماحولیاتی نظام دوبارہ اپنے اصل روپ میں آ جاتا ہے۔ ٹروکیلن جزیرے کی یہ کامیابی دنیا بھر کے ماحولیاتی تحفظ کے منصوبوں کے لیے ایک روشن مثال بن چکی ہے۔ اس پیش رفت سے یہ حوصلہ ملا ہے کہ جزائر پر موجود نایاب حیات کو بچانے کے لیے منظم اور سائنسی بنیادوں پر اقدامات کتنے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین اب اس ماحولیاتی کامیابی کو دنیا کے دیگر حصوں میں بھی دہرانے کے خواہشمند ہیں جہاں حملہ آور چوہے اور دیگر جانور مقامی نباتات اور حیوانات کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس کامیابی نے نہ صرف حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیا ہے بلکہ سائنسی تحقیق کے لیے بھی نئے در وا کر دیے ہیں تاکہ مستقبل میں بھی ایسی بحالی کی مہمات کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔