World
شنگھائی تعاون تنظیم کے 25 سال، ترقی کے تین ستون پیش
شنگھائی تعاون تنظیم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے تنظیم کی پچیس سالہ تاریخ میں ترقی کے تین بنیادی ستونوں کو نمایاں کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے رکن ممالک کے مابین باہمی تعاون اور بات چیت کے فروغ کے تناظر میں کیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے تنظیم کے پچیس سالہ شاندار سفر کے دوران ترقی اور استحکام کے تین بنیادی ستونوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں اور مختلفممالک کے درمیان دو طرفہ اور کثیر جہتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم نے پچھلے پچیس برسوں میں علاقائی سلامتی، اقتصادی شراکت داری اور ثقافتی روابط کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ باہمی مکالمے اور تعاون کے ذریعے ہی خطے کے درپیش چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر روسی قانون سازوں اور دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم تمام رکن ممالک کے لیے ایک پرامن اور محفوظ مستقبل کی راہ ہموار کرنے کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وسطی ایشیا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی دورے اور ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایس سی او کے پلیٹ فارم سے خطے میں اعتماد کی فضا کو مزید پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں تنظیم کے اندر اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ پچیس سالہ کامیابیوں کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے اور عام لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔