Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے بعد الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکے نے الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں پینتیس فیصد تک کا نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، رواں سال فروخت ہونے والی نئی کاروں میں سے اٹھائیس فیصد سے زائد برقی گاڑیاں ہوں گی۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اور شدید اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں دنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی تازہ ترین تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے صارفین روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کی جانب تیزی سے راغب ہو رہے ہیں جس سے اس صنعت کو نیا فروغ ملا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ غیر یقینی معاشی حالات اور تیل کے بحران کے باعث عالمی سطح پر برقی گاڑیوں کی فروخت میں پینتیس فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ اس صنعت کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی خطے بالخصوص ایران کے گرد کشیدگی اور تیل کی سپلائی کے خدشات نے بھی اس رجحان کو مزید تقویت بخشی ہے جس سے ایشیا میں برقی گاڑیوں کے رجحان میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ اگرچہ چین میں معاشی سست روی کے اثرات مجموعی فروخت پر اثر انداز ہو رہے ہیں، تاہم اس کے باوجود عالمی منڈی میں برقی گاڑیوں کا تناسب مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی جریدوں اور مبصرین کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ میں سیاسی مخالفت اور ریپبلکن پارٹی کی جانب سے برقی گاڑیوں کی پالیسیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کے باوجود، رواں سال کے اختتام تک نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں الیکٹرک کاروں کا حصہ انتیس فیصد تک پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین اب طویل المدتی معاشی بچت اور ماحولیاتی استحکام کے پیش نظر روایتی ایندھن کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو مستقبل کی ٹرانسپورٹ مارکیٹ کا رخ تبدیل کرنے کے لیے کافی ہے۔