Sports
سپوتنک چوٹی: ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش نکالنے کا آپریشن بحال
گلگت بلتستان کے سپوتنک چوٹی پر جان بحق ہونے والی پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیم نے کارروائی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ خراب موسم کے باعث یہ آپریشن کچھ روز معطل رہا تھا جسے موسم کی بہتری کے بعد اب آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں واقع 7,027 میٹر بلند سپوتنک چوٹی (گولڈن پیک) سے پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کی میت کو نیچے لانے کے لیے منگل کے روز ریسکیو ٹیم نے اپنا سفر اور کارروائی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ چونتیس سالہ کوہ پیما 20 اگست کو چوٹی سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریبا 6,250 میٹر کی بلندی پر ہائی الٹیٹیوڈ سک نیس (بلندی کی بیماری) کے باعث انتقال کر گئی تھیں، اور ان کی میت تاحال کیمپ 3 پر موجود ہے۔ اس سے قبل شدید خراب موسم کے باعث لاش کو نیچے لانے کی تمام کوششیں عارضی طور پر معطل کرنا پڑی تھیں۔ الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ایاز شگری نے بتایا تھا کہ منگل کے روز موسم بہتر ہونے کی توقع تھی، جس کے بعد ریسکیو ٹیم نے بیس کیمپ سے دوبارہ روانگی اختیار کی۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ موسم میں بہتری کے بعد ریسکیو ٹیم نے اپنا آپریشن دوبارہ شروع کر دیا ہے اور ٹیم تمام تر حفاظتی تدابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیمپ 2 کی جانب بڑھ رہی ہے۔ مزیدار تفصیلات کے مطابق، پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے میت کو بیس کیمپ پہنچنے کے بعد سکردو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ الپائن کلب کے مطابق ڈاکٹر اسماء مشتاق نے کامیابی کے ساتھ سپوتنک چوٹی کو سر کیا تھا اور اس دوران وہ بالکل صحت مند تھیں۔ تاہم واپسی کے راستے پر انہیں آکسیجن کی کمی اور شدید بلندی کی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ ان کے ساتھی گائیڈز اکبر علی اور محمد امین نے انتہائی کٹھن حالات میں بروقت طبی امداد دینے کی بھرپور کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ الپائن کلب کے سینئر نائب صدر کرار حیدری نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر اسماء مشتاق اس پانچ رکنی پاکستانی خواتین کوہ پیما ٹیم کا حصہ تھیں جنہوں نے سپوتنک چوٹی کو کامیابی سے سر کیا تھا، جن میں زونی اسلم، زبا شگری، شما اور سہانہ بھی شامل تھیں۔