LIVE
Loading Breaking News...

جے یو آئی ف کا پی ٹی آئی سے اتحاد اور نئے صوبوں پر مؤقف

News Image
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اتحاد کا امکان فی الحال ختم نہیں کیا ہے۔ تاہم پارٹی قیادت نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے ترجمان یا اہم رہنماؤں کی جانب سے حالیہ سیاسی صورتحال پر اہم بیانات سامنے آئے ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مستقبل میں کسی بھی قسم کے سیاسی اتحاد کا آپشن تاحال کھلا رکھا ہے۔ موجودہ ملکی سیاسی ماحول میں تمام سیاسی جماعتیں اپنے اتحادی اور حریفوں کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہی ہیں، اور جے یو آئی ف کا یہ مؤقف سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کے اختلافات کے باوجود مستقبل میں رابطوں کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی ف نے ملک میں نئے انتظامی یا لسانی صوبے بنانے کے مطالبات اور تجاویز کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی بہتری کی بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور اس سے قومی یکجہتی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جے یو آئی ف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام توجہ معاشی استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور آئینی اداروں کے استحکام پر مرکوز ہونی چاہیے نہ کہ ایسے متنازع موضوعات پر جو عوام کو تقسیم کریں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جے یو آئی ف کی طرف سے پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ یا آپشن کھلا رکھنا آئندہ پارلیمانی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپوزیشن جماعتیں مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہیں۔ اگرچہ دونوں جماعتوں کے نظریات میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے، لیکن موجودہ سیاسی محاذ آرائی میں وقتی مفادات اور سیاسی بقا کے لیے نئی صف بندیاں خارج از امکان نہیں ہیں۔ ترجمان جے یو آئی ف کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی ملک میں جمہوری اقدار کی بالا دستی اور آئین کی پاسداری کے لیے تمام آئینی اور سیاسی راستے اختیار کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ نئے صوبوں کے معاملے پر پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے اور اس میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے، اور تمام سیاسی جماعتیں اپنے اگلے لائحہ عمل کے لیے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔