World
یوکرین کا یوم آزادی: آئرش وزیراعظم کی کیف آمد اور یورپی اتحاد کا اجلاس
یوکرین کے یوم آزادی کے موقع پر صدر ولودیمیر زیلنسکی کی میزبانی میں یورپی اتحادیوں کا اہم اجلاس کیف میں جاری ہے۔ اس موقع پر آئرش وزیراعظم بھی 'کوئلیشن آف دی ولنگ' کے اجلاس میں شرکت کے لیے یوکرین کے دارالحکومت پہنچ گئے ہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ملک کے یوم آزادی کے پرمسرت اور کٹھن موقع پر کیف میں یورپی اتحادیوں کے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی ہے۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب روس کے ساتھ جاری طویل اور خونی تنازعہ میں مسلسل شدت آ رہی ہے، تاہم یوکرین کی حکومت اور عوام اپنے عزم صمیم کا اعادہ کرتے ہوئے ملک کی آزادی کا دن منا رہے ہیں۔ اس تقریب اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لیے آئرش وزیراعظم (ٹائیسک) بھی خصوصی طور پر کیف پہنچ چکے ہیں تاکہ یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
دورے کے دوران آئرش وزیراعظم اور دیگر یورپی رہنماؤں نے یوکرین کی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور ملک کی خودمختاری و سلامتی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا۔ 'کوئلیشن آف دی ولنگ' کے اس اجلاس کا بنیادی مقصد یوکرین کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنا اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگی حالات میں یوکرین کے اتحادیوں کو متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا تاکہ جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے تمام یورپی رہنماؤں کا کیف آمد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یوکرین کی آزادی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری قوم یکسو ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یوکرین کے عوام اپنے ملک کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں کریں گے اور فتح حاصل کرنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ عالمی سطح پر اس اجلاس کو یوکرین کے ساتھ یکجہتی کا ایک طاقتور پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یوکرین کی سیاسی اور عسکری قیادت کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، اس موقع پر کیف سمیت یوکرین کے مختلف شہروں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں کیونکہ روسی حملوں کا خدشہ تاحال برقرار ہے۔ یورپی رہنماؤں کی کیف آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ مغربی ممالک اور ان کے اتحادی یوکرین کی حمایت میں کسی قسم کی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اجلاس اور یوم آزادی کی تقریبات جنگ کے اس نازک موڑ پر یوکرین کے لیے سفارتی اور اخلاقی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔