Technology
اسکول سیکیورٹی کے لیے جدید ڈرونز کا استعمال اور انڈسٹری کی ترقی
اسکولوں میں فائرنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے جدید ریموٹ کنٹرول ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ اربوں ڈالر کی انڈسٹری سیکیورٹی کے شعبے میں ایک نیا انقلاب لے کر آرہی ہے۔
امریکہ اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے اب جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں اسکولوں کے اندر فائرنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایک ایسے نظام پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کم سے کم وقت میں مؤثر کارروائی کر سکے۔ اس مقصد کے لیے تیار کیے جانے والے نئے ڈرونز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ انتہائی کٹھن حالات میں بھی کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ڈرون ریموٹ کے ذریعے دور بیٹھے آپریٹرز کی جانب سے لانچ کیے جاتے ہیں اور اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ ضرورت پڑنے پر شیشے توڑ کر عمارت کے اندر داخل ہو سکتے ہیں۔ ان ڈرونز کی آمد سے کلاس رومز کو کلیئر کرنے اور صورتحال کا جائزہ لینے میں امدادی ٹیموں کو زبردست مدد ملتی ہے۔ ان جدید سیکیورٹی ڈرونز میں اسپیکر فونز بھی نصب کیے گئے ہیں جن کے ذریعے پولیس اہلکار اور اساتذہ آپس میں یا متاثرہ افراد کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی مشتبہ افراد یا حملہ آوروں کو الجھانے اور ان کی توجہ ہٹانے کے لیے بھی خصوصی فیچرز رکھتی ہے، تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جوابی کارروائی کا موقع مل سکے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ پورا منصوبہ اب ایک بڑی تجارتی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے آنے والے دنوں میں تعلیمی اداروں کے اندر قیمتی جانیں بچانے میں مدد ملے گی، تاہم اس پر ہونے والے اخراجات اور تعلیمی ماحول پر اس کے اثرات کے حوالے سے بحث بھی جاری ہے۔