World
صدر زیلنسکی کا جنگی حالات میں یوکرین میں انتخابات سے انکار
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ملک میں جاری جنگی صورتحال کے دوران انتخابات کرانے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملک کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحران میں سیاسی کشمکش اور تنازعات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں جاری شدید جنگی حالات کے دوران کسی قسم کے انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے اور ایسا قدم یوکرین کے لیے ایک 'سونامی' ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی تمام تر توجہ ملکی دفاع اور روس کے خلاف جاری مزاحمت پر ہونی چاہیے، اور انتخابی عمل ملک میں اندرونی انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ کے سائے میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانا یوکرین کے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر سکتا ہے۔ صدر زیلنسکی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس امر پر بھی زور دیا کہ ملکی قیادت اور اہم فوجی کمانڈرز کے درمیان کسی بھی قسم کا تنازعہ یا اختلافات اس نازک موڑ پر ملک کے مفاد میں نہیں ہیں۔ انہوں نے سابق مسلح افواج کے کمانڈر انچیف جنرل اولیکسندر سیرسکی اور دیگر حکام کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی تنازعات سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے دشمن کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یوکرین اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں لاکھوں شہری بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں انتخابات کا انعقاد نہ صرف تکنیکی لحاظ سے ناممکن ہے بلکہ حفاظتی خدشات کے پیش نظر بھی انتہائی خطرناک ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام توانائیاں جنگ جیتنے اور اتحادی ممالک سے امداد حاصل کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں، تاکہ ملک کی خودمختاری کو برقرار رکھا جا سکے اور بیرونی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔