LIVE
Loading Breaking News...

ایٹ سلیپ کمپنی کا سلیپ ایپنیا کے علاج اور ہیلتھ کیئر میں قدم

News Image
ارب پتی شخصیات میں مقبول سمارٹ گدھا کور بنانے والی کمپنی ایٹ سلیپ نے اپنی شناخت ایک طبی اور ہیلتھ کیئر ادارے کے طور پر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کمپنی کا مقصد نیند کے دوران سانس کی بیماری یعنی سلیپ ایپنیا کا مؤثر علاج فراہم کرنا ہے۔
ایٹ سلیپ (Eight Sleep) نامی اسٹارٹ اپ کمپنی، جو اپنے تین ہزار ڈالر مالیت کے مہنگے ترین سمارٹ گدھا کور کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتی ہے اور اسے ایلون مسک اور مارک زکربرگ جیسی نامور شخصیات استعمال کرتی ہیں، اب اپنی کاروباری سمت تبدیل کرنے جا رہی ہے۔ کمپنی کا یہ ہدف ہے کہ اسے محض ایک لگژری ٹیک پروڈکٹ بنانے والی کمپنی کے طور پر نہ جانا جائے بلکہ وہ صحت کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرتے ہوئے سلیپ ایپنیا (Sleep Apnea) جیسی سنگین بیماری کے علاج کی خدمات بھی فراہم کرے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی نے اس نئی حکمت عملی کے تحت طبی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج پر کام شروع کر دیا ہے۔ سلیپ ایپنیا ایک ایسی خطرناک حالت ہے جس میں سوتے وقت انسان کی سانس بار بار رکتی اور چلتی ہے، جس سے صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایٹ سلیپ کے سمارٹ میٹرس کورز پہلے ہی نیند کے دوران جسمانی درجہ حرارت اور دل کی دھڑکن کو مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اب کمپنی انہی سنسرز اور ڈیٹا کی مدد سے مریضوں کی ابتدائی تشخیص اور علاج میں مددگار ثابت ہونے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد صرف مصنوعات کی فروخت تک محدود رہنا نہیں بلکہ صارفین کو طبی سطح کے فوائد دینا ہے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ نیند انسانی صحت کی بنیاد ہے اور اگر نیند کے مسائل کو سائنسی بنیادوں پر حل کر لیا جائے تو بہت سی بڑی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ماہرینِ صحت اور طبی اداروں کے ساتھ شراکت داری پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ سمارٹ ٹیکنالوجی کو باقاعدہ طبی علاج کے معیار پر پورا اتارا جا سکے۔ اگرچہ ایٹ سلیپ کو ارب پتی افراد کی پسندیدہ پروڈکٹ کے طور پر مارکیٹ میں بڑی پذیرائی ملی ہے، لیکن کمپنی کی یہ نئی کوشش اسے عام لوگوں کی زندگیوں میں بھی ایک اہم طبی معاون بنا سکتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں کمپنی کی جانب سے مزید نئی خصوصیات اور ہیلتھ کیئر فیچرز متعارف کرائے جانے کی توقع ہے، جو صارفین کو نہ صرف پرسکون نیند فراہم کریں گے بلکہ ان کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔