LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا کے امریکی معیشت اور ٹرمپ کے خلاف ممکنہ تجارتی جوابی اقدامات

News Image
کینیڈا اپنی برآمدات کا بڑا حصہ امریکہ کو فروخت کرتا ہے اور جاری تجارتی تنازع کے دوران اس کے پاس اہم معاشی جوابی حربے موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے اقدامات امریکی منڈیوں اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان حالیہ تجارتی تنازع میں شدت آنے کے بعد یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ کینیڈا کے پاس امریکی معیشت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے لیے اصل میں کیا لائحہ عمل یا اقتصادی دباؤ موجود ہے۔ چونکہ کینیڈا اپنی کل برآمدات کا تقریباً ستر فیصد حصہ صرف امریکہ کو فروخت کرتا ہے، اس لیے بظاہر یہ لگتا ہے کہ کینیڈا کا انحصار امریکہ پر بہت زیادہ ہے۔ تاہم، اس تجارتی تعلق کے دونوں طرف گہرے اثرات ہیں اور کینیڈا بھی امریکی صنعتوں اور صارفین کے لیے اہم ترین تجارتی شراکت دار کی حیثیت رکھتا ہے۔ تجارتی کشیدگی بڑھنے کی صورت میں کینیڈا کے پاس کئی ایسے معاشی اور تجارتی جوابی حربے موجود ہیں جو امریکی معیشت کو براہ راست متاثر کر سکتے ہیں۔ ان جوابی اقدامات میں مخصوص امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنا سرفہرست ہے، جس سے امریکی ریاستوں کی مقامی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو کینیڈا کو برآمدات کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں کینیڈا کا کردار انتہائی کلیدی ہے۔ کینیڈا امریکہ کو تیل، گیس اور بجلی کی فراہمی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اگر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے کوئی سختی کی جائے تو امریکی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں جس کا براہ راست سیاسی اور معاشی نقصان موجودہ انتظامیہ کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا دیگر عالمی منڈیوں کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کر کے امریکی دباؤ کا متبادل تلاش کرنے کی حکمت عملی پر بھی غور کر رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے مابین یہ تجارتی جنگ طویل ہوتی ہے تو اس سے سرحدی سپلائی چین شدید متاثر ہوگی۔ آٹو موبائل اور مینوفیکچرنگ کے شعبے ایسے ہیں جہاں پرزہ جات بار بار سرحد پار کرتے ہیں، اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ دونوں طرف کی فیکٹریوں کے پہیے جام کر سکتی ہے۔ کینیڈا کی حکومت ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور معاشی قدم اٹھانے کا عزم رکھتی ہے تاکہ امریکی دباؤ کا مؤثر جواب دیا جا سکے اور امریکی معیشت کو اس کا احساس دلایا جا سکے کہ دوطرفہ تجارت میں نقصان دونوںجانوں کو ہوتا ہے۔