LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق توہینِ عدالت درخواست واپس کر دی

News Image
سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے پی ٹی آئی کے بانی کی ہمکنار ہمہ گیر توہینِ عدالت کی درخواست کو اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔
اسلام آباد: منگل کے روز سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے دائر کردہ توہینِ عدالت کی درخواست کو اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کر دیا۔ یہ درخواست عدالت کے اس فیصلے کی مبینہ خلاف ورزی پر دائر کی گئی تھی جس میں سابق وزیر اعظم کو ایک نجی ہسپتال میں منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے گزشتہ فیصلوں میں قیدی کی صحت اور طبی سہولیات کی فراہمی کے پیشِ نظر یہ احکامات صادر کیے تھے جن پر مبینہ طور پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے قانونی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے انہیں مطلع کیا ہے کہ درخواست کو چند اعتراضات کے ساتھ واپس کیا جا رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ اعتراضات میں سے ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ فریقین کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی فہرست متعلقہ حکام کو ارسال نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ٹیم ان اعتراضات کا جائزہ لے رہی ہے اور ضابطے کی کارروائی کو پورا کرنے کے بعد درخواست کو دوبارہ دائر کیا جائے گا تاکہ عدالتی احکامات پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور جیل میں ان کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے معاملے پر ملک کا سیاسی درجہ حرارت کافی بلند رہا ہے۔ پارٹی کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جیل میں سابق وزیر اعظم کو ان کے بنیادی قانونی اور طبی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی منتقلی اور علاج معالجے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف نے اس معاملے کو اعلیٰ عدلیہ میں بھرپور طریقے سے لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئینی و قانونی راستے سے اپنے قائد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ موجودہ صورتحال میں قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ توہینِ عدالت کی اس درخواست کے تکنیکی بنیادوں پر واپس ہونے سے کیس کا اصل مواد ختم نہیں ہوا بلکہ پی ٹی آئی کے وکلاء کو ایک موقع مل گیا ہے کہ وہ تمام نقائص کو دور کر کے دوبارہ مضبوط انداز میں عدالت سے رجوع کریں۔ اس معاملے پر آنے والے دنوں میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے کیونکہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے ہر آئینی آپشن کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔