Technology
بیجنگ میں عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز، روبوٹس کے حیرت انگیز مقابلے
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پانچ روزہ عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز کا آغاز ہو گیا ہے جس میں انسان نما روبوٹس روایتی کھیلوں کے ساتھ ساتھ فیکٹری اور دفتری امور کے چیلنجز میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مقابلے اب اکیڈمک تجسس سے نکل کر کمرشل مصنوعات کی حقیقی دنیا میں صلاحیتوں کا بڑا قومی مظہر بن چکے ہیں۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دنیا کے سب سے بڑے ہیومنائڈ روبوٹ مقابلوں یعنی عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز کا باقاعدہ آغاز ہفتے کے روز قومی اسپیڈ اسکیٹنگ اوول میں ہوا۔ پانچ روزہ اس ایونٹ کو روبوٹ اولمپکس کا نیا اور سب سے بڑا روپ قرار دیا جا رہا ہے، جس میں روایتی انسانی کھیلوں سے مشابہت رکھنے والے مقابلوں کے علاوہ فیکٹریوں، ریستورانوں، دفاتر اور ہنگامی حالات میں روبوٹس کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے خصوصی ٹیسٹ شامل کیے گئے ہیں۔ ماضی میں یہ روبوٹکس کے شوقین افراد اور تعلیمی اداروں کا ایک دلچسپ مشغلہ ہوا کرتا تھا، تاہم اب چین میں یہ مقابلے ایک قومی نمائش اور ریاستی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، جو کمرشل کمپنیوں کے لیے حقیقی دنیا میں اپنی مصنوعات کی افادیت ثابت کرنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔
مقابلوں کے دوران روبوٹس نے 100 میٹر اسپرنٹ ریس، جمناسٹک، فٹ بال، اور باکسنگ جیسے کھیلوں میں حصہ لے کر شائقین کو دنگ کر دیا۔ بعض مقابلوں میں ہیومنائڈ روبوٹس نے دوڑ کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریکارڈ توڑے، تاہم توازن برقرار رکھنے کی مشکل اور تکنیکی خرابیوں کے باعث کچھ روبوٹس کو گرتے ہوئے اور ریس کے اختتام پر شعلوں کی زد میں آتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ فائر فائٹرز اور عملے کو موقع پر موجود ہو کر آگ پر قابو پانا پڑا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تاحال ان پیچیدہ مشینوں کو عملی میدان میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ اس کے باوجود، روبوٹس کی جانب سے کیبل اسمبلی، ریسٹوران سروس، ویٹ لفٹنگ اور طویل چھلانگ جیسی سرگرمیوں نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔
ٹورنامنٹ میں مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ جدید ترین روبوٹس نے حصہ لیا، جن میں یوٹیری روبوٹکس، بوسٹر روبوٹکس اور دیگر نامور برانڈز کے ہیومنائڈ روبوٹس شامل ہیں۔ ان روبوٹس کے درمیان 5 بمقابلہ 5 فٹ بال میچز اور کک باکسنگ کے کوارٹر فائنلز بھی کھیلے گئے، جن میں ان کی دائیں بائیں حرکت کرنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت کو جانچا گیا۔ اس کے علاوہ، فزیکل اسپورٹس کے ساتھ ساتھ روبوٹس نے ہنر مند ہاتھوں سے بلاکس جوڑنے اور روزمرہ کے دفتری کاموں کی نقالی کرنے کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے مقابلے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انڈسٹری کو تیزی سے آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، کیونکہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کو محض شو پیس کے بجائے کارآمد افرادی قوت کے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔