LIVE
Loading Breaking News...

چین کا رئیل اسٹیٹ بحران اور ایورگرینڈ کے بانی کو عمر قید

News Image
چین میں رئیل اسٹیٹ کا بحران اس وقت مزید سنگین ہو گیا ہے جب ایورگرینڈ کے بانی ہوئی کا یان کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ ملک میں گھروں کی گرتی ہوئی قیمتوں اور ادھورے پراجیکٹس کی وجہ سے صارفین کی دولت اور کھپت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
بیجنگ: چین کا رئیل اسٹیٹ بحران بدستور گہرا ہوتا جا رہا ہے، اور حالیہ عدالتی کارروائیوں کے باوجود مارکیٹ کے بنیادی مسائل حل نہیں ہو سکے۔ حال ہی میں چین کے بدنام زمانہ رئیل اسٹیٹ ادارے ایورگرینڈ کے بانی ہوئی کا یان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، تاکہ مالیاتی بدعنوانی پر قابو پایا جا سکے، تاہم اس کڑے اقدام کے باوجود سیکٹر کے حالات بہتر نہیں ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سزا سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ ملک بھر میں گھروں کی گرتی ہوئی قیمتیں، ہزاروں کی تعداد میں ادھورے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس، کمزور فروخت اور ڈویلپرز پر بڑھتا ہوا قرضوں کا بوجھ عام شہریوں کی جمع پੂੰجی اور گھریلو دولت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ عوام کا رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے جس کا براہ راست اثر ملکی کھپت اور مجموعی معاشی شرح نمو پر پڑ رہا ہے۔ تعمیراتی شعبے کا جمود معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ان بگڑتے ہوئے حالات کے پیش نظر بیجنگ حکومت نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرنا شروع کر دی ہے۔ حکام اب روایتی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بچانے کے بجائے اپنی مالی معاونت اور توجہ ہائی ٹیک انڈسٹریز اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کا یہ نیا رخ اس بات کا اشارہ ہے کہ چین طویل عرصے سے رئیل اسٹیٹ پر انحصار کرنے والے معاشی ماڈل سے جان چھڑا کر پائیدار اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے۔