LIVE
Loading Breaking News...

نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی

News Image
نیوزی لینڈ کی حکومت نے بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے سولہ سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے آن لائن نقصانات سے کم عمر نسل کا تحفظ کرنا ہے۔
نیوزی لینڈ کی حکومت نے بچوں کو انٹرنیٹ کے منفی اثرات اور آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اہم ترین اقدام کا اعلان کیا ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت ملک بھر میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ فیصلہ دنیا بھر کے ان ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست میں نیوزی لینڈ کا نام بھی شامل کرتا ہے جو کم عمر نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے سخت گیر قوانین متعارف کروا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جلد ہی اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے گی جس کا مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں کی ذہنی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال نے بچوں کی فلاح و بہبود اور تعلیمی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آن لائن غنڈہ گردی، نقصان دہ مواد تک آسان رسائی اور ڈیجیٹل ایڈکشن جیسے مسائل نے والدین اور ماہرینِ تعلیم کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس نئے قانون کے نفاذ سے پلیٹ فارمز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کم عمر صارفین کی شناخت کی تصدیق کریں اور انہیں اپنے نیٹ ورکس تک رسائی سے روکیں۔ اس پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے متعلقہ اداروں، ماہرینِ نفسیات اور والدین سے بھی مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ اس کے نفاذ میں درپیش تکنیکی اور عملی مشکلات کو دور کیا جا سکے۔ عالمی سطح پر بھی اس وقت بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے یا ضابطے کے تحت لانے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ آسٹریلیا اور آئرلینڈ سمیت کئی دیگر ممالک بھی اس نوعیت کے قوانین پر غور کر رہے ہیں یا انہیں عملی جامہ پہنا رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کا یہ قدم اسی عالمی تحریک کا حصہ مانا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کمپنیوں کو زیادہ جوابدہ بنانا اور کم عمر بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ قانون کے مسودے کو باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جہاں اس پر تفصیلی بحث کی جائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ قانون اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر مؤثر ثابت ہو۔