Business
سیمسنگ شیئرز میں کمی، کے پی آئی انڈیکس میں تین فیصد گراوٹ
کوریا کا کے پی آئی انڈیکس سیمسنگ کے حصص میں ہونے والی بھاری کمی کے بعد تین فیصد سے زائد گر گیا۔ سرمایہ کاروں کی توقعات کے مطابق شیئر ہولڈر ریٹرن پلان سامنے نہ آنے پر مارکیٹ میں مندی دیکھی گئی۔
جنوبی کوریا کا معیاری کے پی آئی (KOSPI) انڈیکس پیر کے روز شدید مندی کا شکار ہو گیا اور اس میں تقریبا تین فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے وقت انڈیکس میں دو سو پندرہ پوائنٹس سے زیادہ کی کمی دیکھی گئی جس سے کاروباری سرگرمیوں میں سرمایہ کاروں کے شدید تحفظات واضح طور پر نظر آئے۔ اس اچانک زوال کی سب سے بڑی وجہ ملکی ٹیک جائنٹ سیمسنگ الیکٹرانکس کے حصص میں ہونے والی آٹھ فیصد سے زیادہ کی تاریخی گراوٹ تھی۔
سیمسنگ کے شیئرز میں یہ مندی اس وقت شروع ہوئی جب کمپنی کی جانب سے پیش کردہ شیئر ہولڈر ریٹرن پلان سرمایہ کاروں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کار اس بات کے منتظر تھے کہ کمپنی حصص یافتگان کو زیادہ منافع اور بہتر مالیاتی پالیسیوں کا یقین دلائے گی، تاہم مایوس کن منصوبہ سامنے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر شیئرز کی فروخت کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کا براہ راست اثر مجموعی انڈیکس پر پڑا۔
اس صورتحال نے جنوبی کوریا کے سرمائے کی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے اور تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ سیمسنگ جیسی بڑی ملکی اور بین الاقوامی کمپنی کا اس طرح سے دباؤ کا شکار ہونا پورے ملک کے معاشی اشاریوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مارکیٹ کے آئندہ لائحہ عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حکومتی اور مالیاتی ادارے اس مندی کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر کمپنی انتظامیہ مستقبل قریب میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے کوئی پرکشش حکمت عملی کا اعلان نہیں کرتی ہے تو مارکیٹ میں یہ غیر یقینی صورتحال کچھ اور عرصہ برقرار رہ سکتی ہے۔