LIVE
Loading Breaking News...

سافٹ بینک کا جاپان میں 6.3 ارب ڈالر کے بانڈز کا اجرا

News Image
جاپانی کمپنی سافٹ بینک اوپن اے آئی میں اپنی سرمایہ کاری کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ایک ٹریلین ین کے ریکارڈ ریٹیل بانڈز جاری کرنے جا رہی ہے۔ یہ جاپان کی تاریخ میں کسی بھی ادارے کی جانب سے سب سے بڑا ریٹیل بانڈ اجرا ہوگا۔
جاپان کی معروف اور بڑی ٹیکنالوجی انویسٹمنٹ کمپنی سافٹ بینک نے اپنے سرمایہ کاری کے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق سافٹ بینک جاپان میں ایک ٹریلین ین یعنی تقریباً 6.3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے ریٹیل بانڈز فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ جاپانی مالیاتی تاریخ میں کسی بھی کارپوریٹ ادارے کی طرف سے سب سے بڑا ریٹیل بانڈ کا اجراء ہوگا، جو کمپنی کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بڑے مالیاتی اقدام کا بنیادی مقصد آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے کی سرکردہ کمپنی اوپن اے آئی میں سافٹ بینک کے پرعزم سرمایہ کاری کے وعدوں کی تکمیل کرنا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ روایتی بینک اس پراجیکٹ سے جڑے خطرات کی وجہ سے مزید فنڈنگ دینے سے گریزاں تھے، جس کی وجہ سے اس پورے معاملے کا دارومدار اور انحصار اب عام ریٹیل سرمایہ کاروں پر ہی رہ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے عوام کی سطح پر ان بانڈز کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سافٹ بینک کے چیف ایگزیکٹو ماسایوشی سن آنے والے وقتوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کو اپنے کاروباری ماڈل کا مرکز بنا چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کی اس ٹیکنالوجی پر اجارہ داری قائم کی جا سکے۔ اوپن اے آئی کے ساتھ ہونے والے معاہدے اور وعدے اسی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں جن کے لیے اب اس ریکارڈ بانڈ کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے جائیں گے۔ مالیاتی منڈی کے تجزیہ کاروں کے مطابق، جاپان میں ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب سے اس بانڈ کے اجراء کو کس نوعیت کا رسپانس ملتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔ اگرچہ روایتی بینکاری کے شعبے نے اس عمل سے احتیاط برتی ہے، تاہم کم شرح سود والے جاپانی ماحول میں عام سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے۔ سافٹ بینک کو یقین ہے کہ اس تاریخی بانڈ کی کامیابی سے نہ صرف اوپن اے آئی میں فنڈنگ کا مسئلہ حل ہو گا بلکہ کمپنی کے آئندہ کے بڑے اہداف کو بھی تقویت ملے گی۔