Technology
بیجنگ میں روبوٹ اولمپکس کا انعقاد، چینی روبوٹ نے دوڑ جیت لی
بیجنگ میں منعقد ہونے والے روبوٹ اولمپکس میں سولہ مختلف ممالک کے روبوٹس نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ چینی روبوٹ تیانگونگ الٹرا نے 100 میٹر کی دوڑ محض نو اعشاریہ تین نو سیکنڈ میں مکمل کر کے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک منفرد اور عالمی سطح کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا ہے جسے 'روبوٹ اولمپکس' کا نام دیا گیا ہے۔ اس عالمی ایونٹ میں دنیا بھر کے سولہ مختلف ممالک سے جدید ترین روبوٹس نے شرکت کی اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس مقابلے کا مقصد روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی تازہ ترین ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا تاکہ مستقبل کی ضروریات کے لیے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
مقابلے کے دوران سب سے زیادہ توجہ کا مرکز چینی روبوٹ 'تیانگونگ الٹرا' بنا جس نے اپنی حیرت انگیز رفتار سے سب کو دنگ کر دیا۔ اس جدید ترین روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف نو سیکنڈ اور انتالیس سوویں سیکنڈ میں مکمل کی۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ اس نے نہ صرف یہ ریس جیت لی بلکہ روبوٹکس کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم کیا جو آنے والے وقتوں میں تحقیق اور ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
اس عالمی مقابلے میں صرف دوڑ ہی نہیں بلکہ مختلف کیٹیگریز میں روبوٹس کی جسمانی چستی، توازن، اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیتوں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقابلے روبوٹکس کی صنعت میں تیزی سے انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں انسانوں اور روبوٹس کا باہمی تعاون مزید بہتر اور کارآمد ہو جائے گا۔
اس ایونٹ کے کامیاب انعقاد سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ چین روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا بھر میں پیش پیش ہے۔ مختلف ممالک کے سائنسدانوں اور انجینئرز نے اس پلیٹ فارم کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور مستقبل کے مشترکہ پراجیکٹس پر بات چیت کرنے کے لیے انتہائی مفید قرار دیا ہے۔