World
بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کا بڑا احتجاج اور نو سال مکمل
بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں نے اپنے وطن واپسی اور بنیادی حقوق کے مطالبے کے لیے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اس احتجاج کو بنگلہ دیشی کیمپوں میں ان کی جبری ہجرت کے نو سال مکمل ہونے پر منظم کیا گیا تھا۔
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں قائم پناہ گزین کیمپوں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں نے اپنی جبری ہجرت کے نو سال مکمل ہونے پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مرد، خواتین اور بچوں نے پلے کارڈز اٹھا کر میانمار واپسی اور کیمپوں میں بہتر زندگی کے بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ نو سال سے بے وطن زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی روشن امید دکھائی نہیں دے رہی۔
سنہ 2017 میں میانمار کی فوج کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے بعد لاکھوں روہنگیا مسلمانوں نے جان بچا کر بنگلہ دیش کا رخ کیا تھا، جہاں انہیں کاکس بازار کے عارضی کیمپوں میں پناہ دی گئی۔ اتنے طویل عرصے گزرنے کے باوجود نہ تو ان کی میانمار باعزت واپسی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی عالمی برادری اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالنے میں کامیاب ہو سکی ہے۔ کیمپوں میں بڑھتا ہوا جرائم کا تناسب، سکیورٹی کے مسائل اور خوراک کی قلت نے پناہ گزینوں کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔
مظاہرے کے دوران کمیونٹی کے رہنماؤں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ میانمار کی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ روہنگیا اقلیت کے بنیادی حقوق بحال کیے جا سکیں اور ان کی باعزت وطن واپسی کا راستہ ہموار ہو سکے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کیمپوں میں زندگی گزارنا عارضی حل ہو سکتا ہے لیکن مستقل حل صرف میانمار میں ان کے مساوی حقوق کی بحالی اور محفوظ شہریت ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت بھی ان پناہ گزینوں کے طویل قیام سے معاشی اور سکیورٹی کے چیلنجز کا شکار ہے، اور وہ بارہا عالمی اداروں سے مطالبہ کر چکی ہے کہ پناہ گزینوں کے اخراجات میں تعاون کیا جائے یا ان کی تیسرے ملک منتقلی میں مدد کی جائے۔ موجودہ احتجاج نے ایک بار پھر اس عالمی انسانی بحران کو دنیا کی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے، جس کا فوری اور منصفانہ حل تلاش کرنا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔