LIVE
Loading Breaking News...

عالمی سمندری درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ اور ماحولیاتی بحران

News Image
کوپرنیکس ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی اور ایل نینو کے شدید اثرات کی وجہ سے دنیا بھر کے سمندروں کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس صورتحال سے سمندری ماحولیات اور عالمی موسمیاتی نظام پر بے پناہ دباؤ پڑ رہا ہے۔
یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس نے دنیا بھر کے سمندروں کے درجہ حرارت میں ہونے والے غیر معمولی اور ریکارڈ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق، عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور 'ایل نینو' کے موسمی مظہر کے شدید ہوتے اثرات نے کرہ ارض کے سمندروں کو ایک بے مثال اور خطرناک دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندروں کا گرم ہونا نہ صرف آبی حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے بلکہ اس سے دنیا بھر کے موسمیاتی چکر میں بھی خطرناک تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سمندر زمین پر پڑنے والی اضافی حرارت کا بیشتر حصہ جذب کرتے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ کچھ عرصے سے سمندری سطح کے درجہ حرارت میں مسلسل تشویشناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایل نینو کے فعال ہونے سے یہ صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی ہے کیونکہ یہ موسمی رجحان بحر الکاہل اور دنیا کے دیگر حصوں میں درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور سمندری اوسط سطح بلند ہونے جیسے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا تو سمندروں کا یہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت کرہ ارض کے ماحولیاتی توازن کو مکمل طور پر درہم برہم کر سکتا ہے۔ مرجان کی چٹانیں یعنی کورل ریفس پہلے ہی اس حرارت کی وجہ سے سفید ہو رہی ہیں اور مر رہی ہیں، جو سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ عالمی برادری پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری بنیادوں پر موسمیاتی تبدیلی کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے تاکہ سمندروں کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔