LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش

News Image
بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا مثبت انداز میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ میں حصہ لینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پیر کے روز ایک اعلیٰ سفارت کار اور नव تقرر شدہ وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ان کا ملک اس اہم دفاعی معاہدے کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں ابتدائی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بنگلہ دیش بین الاقوامی سطح پر ایک باوقار مقام حاصل کر رہا ہے اور مسلم دنیا کے اہم شراکت دار ملک کی موجودہ قیادت کو مختلف پلیٹ فارمز پر خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ ہمایوں کبیر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں اسلامی ممالک کے مابین کوئی دفاعی یا سلامتی کا معاہدہ موجود ہے تو ایسی تنظیم یا معاہدے کا حصہ بننا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس تمام صورتحال کا بغور مشاہدہ کر رہے ہیں اور فی الحال اس پورے معاملے کو نہایت مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی ہمایوں کبیر کو بنگلہ دیش میں وزیر مملکت برائے امور خارجہ مقرر کیا گیا ہے جو کہ اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر کے طور پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے گزشتہ ماہ کی 7 تاریخ کو مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران اس مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے اور دنیا بھر میں اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور باہمی امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔ الصفا محل میں منعقدہ اس اہم سربراہی اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی تھی اور اس دفاعی فریم ورک کی توثیق کی تھی۔ اب بنگلہ دیش کی جانب سے اس معاہدے میں شمولیت کی خواہش کے اظہار کو مسلم دنیا کے سٹریٹجک تعلقات میں ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بنگلہ دیش اس معاہدے کا حصہ بن جاتا ہے تو اس سے خطے میں دفاعی تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا اور تمام برادر اسلامی ملکوں کے درمیان سکیورٹی کے امور پر باہمی اعتماد کو بھی نئی تقویت ملے گی۔