Business
پاکستان نے جولائی 2026 میں 215 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے
پاکستان نے مالی سال 2026ء کے پہلے مہینے یعنی جولائی کے دوران مجموعی طور پر 215 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے۔ اس مالیاتی پیش رفت سے ملک کے معاشی چیلنجز اور بیرونی و اندرونی قرضوں کی صورتحال پر ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے۔
پاکستان نے مالی سال 2026ء کے آغاز پر ہی قرض لینے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے جولائی کے مہینے میں مجموعی طور پر 215 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے۔ معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی مالی سال کے پہلے ہی ماہ اتنی بڑی رقم کا قرضہ لینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملکی معیشت کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور بجٹ کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے کن مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ اعداد و شمار وزارت خزانہ اور متعلقہ مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جو ملک کی مجموعی اقتصادی سمت کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ قرضے ملکی اور غیر ملکی ذرائع سے حاصل کیے گئے ہیں تاکہ حکومتی امور کو چلانے اور ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات کو پورا کیا جا سکے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو طویل مدتی بنیادوں پر اپنے اخراجات میں کمی لانے اور محصولات میں اضافے کے لیے سخت اصلاحات نافذ کرنا ہوں گی، تاکہ بار بار قرض لینے کے اس روایتی رجحان سے جان چھڑائی جا سکے۔ بار بار کے قرضے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور سود کی ادائیگیوں پر بوجھ بڑھاتے ہیں، جس سے معاشی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ دوسری جانب، عامتہ الناس اور کاروباری حلقوں میں بھی بڑھتے ہوئے قرضوں کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ حکومت کو مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔