World
امریکہ کی دہشت گرد لسٹ سے شام کا اخراج، صدر کا ردعمل
شام کے صدر نے ملک کو امریکہ کی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالے جانے کے اقدام کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے۔ اس فیصلے سے شام بین الاقوامی سطح پر اپنے کھوئے ہوئے مقام کو بحال کرنے کی راہ پر گامزن ہو گیا ہے۔
شام کے صدر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک کو امریکہ کی جانب سے دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد شام نے اپنی تاریخ کا ایک اور تاریک اور بدنما داغ دھو ڈالا ہے۔ شامی حکومت کی جانب سے اس پیش رفت کو بین الاقوامی تعلقات میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی اور اقتصادی تنہائی کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اس اہم اقدام کے نتیجے میں اب شام عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو از سر نو استوار کرنے کے لیے تیار ہے اور ملک میں تعمیر نو کے عمل کو بھی زبردست تقویت ملے گی۔ شامی قیادت کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف سفارتی محاذ پر ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ اس سے خطے کے اندر امن و استحکام کی کوششوں کو بھی مہلت ملے گی، کیونکہ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کے بعد معاشی بحالی کے راستے کھل سکیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر کے ممالک کا شام کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط قائم کرنے کا زاویہ تبدیل ہو سکتا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔