Pakistan
کراچی میں ہیوی ٹریفک کا حادثہ، قیمتی جان ضائع
کراچی میں تیز رفتار اور بے قابو ہیوی ٹریفک کی وجہ سے ایک اور قیمتی جان ضائع ہو گئی ہے، جس کے بعد علاق مکینوں اور شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے متعلقہ اداروں سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں ہیوی ٹریفک کے باعث ہونے والے حادثات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر بے احتیاطی کی قیمت معصوم شہریوں کو اپنی جانوں کی شکل میں چکانا پڑ رہی ہے۔ تازہ ترین واقعے میں بھی ایک بار پھر بھاری ٹریفک کی زد میں آ کر ایک اور قیمتی انسانی زندگی ضائع ہو گئی، جس سے شہر بھر میں سوگ کی فضا ہے اور شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہیوی گاڑیوں کی تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین سے صریحاً سرتابی ان حادثات کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔
اس دلخراش واقعے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیل گیا اور لوگوں نے سڑک پر آ کر ٹریفک معطل کر دی تاکہ حکام کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف مبذول کروائی جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر ہیوی ٹریفک کے داخلے کے اوقات کار کی سختی سے پابندی نہیں کروائی جاتی، جس کی وجہ سے یہ بڑی گاڑیاں بالخصوص دفتری اور اسکول کے اوقات میں انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے بظاہر اقدامات کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر زمینی حقائق یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔
عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے حکومت سندھ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت کے لیے واضح اور سخت ضابطہ اخلاق بنایا جائے۔ اس کے علاوہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ شہریوں کا واضح کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری قابو نہ پایا گیا تو عوام کا احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔