Business
عالمی حصص بازار میں ٹیکنالوجی کے حصص کی وجہ سے گراوٹ
ٹیکنالوجی کے حصص میں کمزوری اور فروخت کے دباؤ کے باعث پیر کے روز عالمی حصص بازار میں کمی دیکھی گئی۔ امریکی ٹریژری ییلڈز اور تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باوجود سرمایہ کار ایران پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے حوالے سے فکر مند رہے۔
نیویارک اور لندن میں پیر کے روز کاروباری سرگرمیوں کے دوران ایم ایس سی آئی کا عالمی حصص کا پیمانہ (گ্লোবাল ایکویٹیز گیج) کمی کے ساتھ بند ہوا۔ مارکیٹ میں یہ مندی بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی فروخت کے دباؤ اور کمزوری کی وجہ سے آئی، جس نے دیگر شعبوں سے ملنے والی مثبت حمایت کو زائل کر دیا۔ اس سے قبل امریکی ٹریژری ییلڈز میں کمی اور تیل کی گرتی ہوئی بین الاقوامی قیمتوں کی وجہ سے بازار میں کچھ استحکام کی توقع کی جا رہی تھی، لیکن ٹیک اسٹاکس کی گراوٹ نے ان تمام مثبت عوامل کے اثرات کو کم کر دیا۔ سرمایہ کار اور مارکیٹ کے تجزیہ کار اس صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر کی بڑی معیشتوں میں ٹیکنالوجی کے حصص کی کارکردگی کا براہ راست اثر عالمی مالیاتی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، عالمی سرمایہ کار اس وقت مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے معاملے پر بھی شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء امریکہ کی طرف سے ایران پر متوقع اور مجوزہ پابندیوں کی تفصیلات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں، جس نے کاروباری حلقوں میں غیر یقینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان جغرافیائی سیاسی خدشات اور امریکی پابندیوں کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ جاتی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاو کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔