World
جنرل من آنگ ہلاینگ کا دورہ روس اور بیلاروس: عالمی تنہائی اور نئی حکمت عملی
میانمار کے رہنما جنرل من آنگ ہلاینگ کا حالیہ دورہ ماسکو اور منسک بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے محور کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ تاہم یہ دورہ اس سفارتی جواز کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جس کی فوجی حکومت کو اشد ضرورت تھی۔
میانمار کے فوجی رہنما جنرل من آنگ ہلاینگ کا حالیہ سفارتی دورہ ماسکو اور منسک بین الاقوامی سطح پر پابندیوں کا شکار ممالک کے درمیان گہرے ہوتے ہوئے اتحاد کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ ایک ایسے محور کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی اور عسکری تعلقات کو مضبوط بنا کر تنہائی کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روس اور بیلاروس جیسےممالک کے ساتھ اس قسم کے روابط میانمار کی فوجی حکومت کے لیے وقتی طور پر معاشی اور سفارتی آکسیجن فراہم کر سکتے ہیں، لیکن یہ اقدامات ملک کو طویل مدتی عالمی تنہائی سے نہیں بچا سکتے۔
اس دورے کے دوران دونوں طرف سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے مختلف معاہدوں پر غور کیا گیا۔ اگرچہ اس سفارتی اقدام کے ذریعے میانمار کی فوجی حکومت نے اندرون ملک اپنی پوزیشن کو مضبوط دکھانے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ عالمی سطح پر درکار اس قانونی جواز اور بھرپور حمایت کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو کسی بھی حکومت کے استحکام کے لیے لازمی ہوتی ہے۔ مغربی ممالک اور خطے کے دیگر اہم ادارے اس فوجی حکومت کو پہلے ہی تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں اور اس قسم کے متوازی اتحاد مزید دوریاں پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔
عالمی سطح پر بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں چھوٹے اور پابندیوں کا شکار ممالک کے لیے بڑے طاقتور ممالک کے ساتھ قربت بڑھانا ایک عام حکمت عملی بن چکی ہے۔ روس کے ساتھ تعلقات میانمار کے عسکری ڈھانچے کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ اتحاد خطے کے دیگر ممالک کے لیے تشویش کا باعث بھی ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے محدود سفارتی دورے ملک کے اندرونی اقتصادی بحران کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتے کیونکہ اصل تجارتی مارکیٹیں اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے اب بھی اس حکومت سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں۔
آخر کار، جنرل من آنگ ہلاینگ کا یہ دورہ ایک دو دھاری تلوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ ماسکو اور منسک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرتا ہے تو دوسری طرف یہ میانمار کی مغربی دنیا اور جمہوری ممالک سے بڑھتی ہوئی خلیج کو مزید گہرا کرتا ہے۔ جب تک میانمار کی حکومت اندرونی سطح پر سیاسی اصلاحات اور مصالحتی عمل کی طرف قدم نہیں بڑھاتی، اس طرح کے سفارتی دورے محض علامتی نوعیت کے رہیں گے اور ملک کی بین الاقوامی تنہائی میں کوئی خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہو گی۔