Business
یورپی شیئرز میں کمی، ایران پابندیوں اور کارپوریٹ نتائج کا انتظار
امریکہ کی جانب سے ایران پر متوقع پابندیوں کی تفصیلات اور این ویڈیا کی سہ ماہی رپورٹس کے انتظار کی وجہ سے پیر کے روز یورپی مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا گیا۔ ٹیکنالوجی کے شعبے کے شیئرز میں فروخت کے دباؤ نے مجموعی مارکیٹ کو نیچے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پیر کے روز یورپی حصص بازاروں میں کاروباری دن کا آغاز قدرے کمزور انداز میں ہوا اور مارکیٹ کے بیشتر اہم اشاریے معمولی کمی کا شکار رہے۔ مارکیٹ کے مبصرین کے مطابق، سرمایہ کار اس وقت انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں کیونکہ وہ امریکہ کی جانب سے ایران پر مجوزہ نئی پابندیوں کی باضابطہ تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سیاسی اور معاشی غ غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے جوش و خروش کو ماند کر دیا ہے۔
اس دوران ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز پر نمایاں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس نے مجموعی مارکیٹ کو نیچے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد چپ بنانے والی معروف عالمی کمپنی این ویڈیا کے سہ ماہی مالیاتی نتائج کا بھی بے صبری سے انتظار کر رہی ہے۔ ان نتائج کو دنیا بھر کی ٹیک انڈسٹری اور مارکیٹ کی آئندہ سمت کا تعین کرنے کے لیے کلیدی اہمیت حاصل مانا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے نہ صرف توانائی کی مارکیٹس بلکہ عالمی سپلائی چینز کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی کاروباری شخصیات اور ادارے کسی بھی بڑے فیصلے سے گریز کرتے ہوئے 'پہلے دیکھو اور انتظار کرو' کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا دار و مدار بڑی حد تک واشنگٹن کی جانب سے ایران کے معاملے پر آنے والے حتمی اعلانات اور این ویڈیا کی کارکردگی پر ہوگا۔ اگر نتائج توقعات سے بہتر رہے تو مارکیٹ میں کچھ بہتری دیکھنے کو مل سکتی ہے، بصورت دیگر عالمی مارکیٹس میں مزید اتار چڑھاؤ کا امکان خارج نہیں کیا جا سکتا۔