LIVE
Loading Breaking News...

رگبی لیگ لیجنڈ سر بلے بوسٹن کا 92 سال کی عمر میں انتقال

News Image
رگبی لیگ کی تاریخ کے عظیم ترین ٹرائے سکوررز میں سے ایک سر بلے بوسٹن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے پر کھیلوں کی دنیا میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
رگبی لیگ کی دنیا کے مایہ ناز اور عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے سر بلے بوسٹن 92 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کا شمار اس کھیل کے تاریخ ساز ٹرائے سکوررز میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنے شاندار کیریئر کے دوران ان گنت یادگار کارنامے انجام دیے۔ ان کی موت کی خبر سامنے آتے ہی پوری کھیلوں کی دنیا میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے اور مداحوں کی جانب سے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سر بلے بوسٹن نے اپنے دور میں رگبی لیگ کے کھیل پر انمٹ نقوش چھوڑے اور وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتے تھے۔ سر بلے بوسٹن کا تعلق ویلز سے تھا اور انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ دور میں اپنی شاندار صلاحیتوں، پھرتی اور کھیل کی زبردست سمجھ کی بدولت بین الاقوامی سطح پر بے پناہ شہرت حاصل کی۔ انہیں کھیل کے میدان میں مخالف ٹیموں کے لیے ایک خوابیدہ کھلاڑی مانا جاتا تھا جو کسی بھی وقت کھیل کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کے اسپورٹس مین شپ اور گراؤنڈ پر جارحانہ مگر شائستہ انداز نے انہیں لاکھوں شائقین کا چہیتا بنا دیا تھا۔ ان کے جانے سے رگبی لیگ کے شائقین ایک ایسے سچے ہیرو سے محروم ہو گئے ہیں جس کی کمی طویل عرصے تک پوری نہیں کی جا سکتی۔ کھیلوں کے مختلف حلقوں، تنظیموں اور سابقہ کھلاڑیوں نے سر بلے بوسٹن کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ورثے کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں رگبی حکام کا کہنا تھا کہ بوسٹن صرف ایک بہترین کھلاڑی ہی نہیں بلکہ اس کھیل کے سفیر تھے جنہوں نے رگبی لیگ کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یادیں اور ان کے ریکارڈز ہمیشہ آنے والی نسلوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔ سر بلے بوسٹن کی رحلت کے بعد دنیا بھر میں تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف تقریبات میں ان کی خدمات کو یاد کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ وہ اب اس فانی دنیا میں موجود نہیں ہیں، تاہم رگبی لیگ کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور ان کی میراثے کھیل کے شائقین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔