World
کینیا میں نرسوں کی ہڑتال اور مطالبات کی تفصیل
کینیا میں ہزاروں نرسوں نے مناسب تنخواہوں اور کام کے بہتر حالات کے مطالبات کے حق میں ہڑتال شروع کر دی ہے۔ شیرو کیہارا سمیت دیگر طبی عملے کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر ان کے مطالبات پر توجہ دینی چاہیے۔
کینیا میں صحت کا شعبہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہو گیا ہے جب ہزاروں نرسوں نے تنخواہوں میں اضافے اور کام کے بہتر حالات کے مطالبات کے لیے ملک گیر ہڑتال شروع کر دی ہے۔ ہڑتال میں شامل نرسوں کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ سخت قدم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس سلسلے میں ایک نرس شیرو کیہارا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب صورتحال ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور نرسوں کا مزید استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں میں اس ہڑتال کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایمرجنسی سروسز کے علاوہ بیشتر شعبوں میں طبی عملہ کام سے دستبردار ہو چکا ہے، جس سے صحت کی بنیادی سہولیات کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ نرسنگ یونینز کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں موجودہ تنخواہوں میں گزر بسر کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالے۔
دوسری جانب، حکام کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور طبی عملے کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے۔ تاہم، نرسوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات کو تحریری طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان پر عمل درآمد کا آغاز نہیں ہوتا، ان کی ہڑتال جاری رہے گی۔ اس صورتحال نے کینیا کے مجموعی ہیلتھ کیئر سسٹم پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں اور عام شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔