Technology
این ویڈیا اور سپر مائیکرو کے ملازمین چپ اسمگلنگ میں مطلوب
تائیوان کے حکام نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلقہ چپ اسمگلنگ کے مبینہ اسکینڈل میں نو افراد کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے۔ اس معاملے میں معروف کمپنیوں این ویڈیا اور سپر مائیکرو کے ملازمین بھی مبینہ طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔
تائیوان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تفتیشی حکام نے ایک بڑے ہائی ٹیک اسیکنڈل کا پردہ فاش کرتے ہوئے معروف امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں این ویڈیا اور سپر مائیکرو کے ملازمین سمیت کل نو افراد کے خلاف باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ یہ کارروائی چین کو ممنوعہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ترین کمپیوٹر سرورز کی غیر قانونی اسمگلنگ اور برآمدات کی تحقیقات کے سلسلے میں عمل میں لائی گئی ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ ملزمان ایک پیچیدہ اور خفیہ اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھے جو مبینہ طور پر تائیوان کے راستے ممنوعہ چپس اور اے آئی سسٹمز کو انتہائی چوکسی کے باوجود چین منتقل کرنے میں ملوث تھے۔ ان جدید سرورز اور سیمی کنڈکٹرز کو دنیا بھر میں جدید ترین مشین لرننگ، عسکری ریسرچ اور کمرشل اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، جن کی برآمد پر امریکی اور بین الاقوامی سطح پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔
اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد عالمی ٹیک انڈسٹری میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ این ویڈیا اور سپر مائیکرو جیسی کمپنیاں عالمی چپ مارکیٹ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی غیر قانونی ترسیلات سے نہ صرف برآمدی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ دنیا بھر میں اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کے توازن کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تائیوان کے پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس پورے اسکینڈل کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور اس میں ملوث دیگر افراد یا اداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ دونوں متاثرہ کمپنیوں کی جانب سے تاحال اس سنگین معاملے پر مکمل تعاون کرنے اور اپنے اندرونی سسٹمز کو مزید سخت بنانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔