World
براڈ پیک ایవలینچ: امریکی کوہ پیما سارہ میلوری گیز کی لاش اسکردو منتقل
براڈ پیک کے خطرناک برفانی تودے کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والی امریکی کوہ پیما سارہ میلوری گیز کی میت ہیلی کاپٹر کے ذریعے بیس کیمپ سے اسکردو منتقل کردی گئی ہے۔ خراب موسم کے باعث ریسکیو آپریشن میں تاخیر ہوئی تھی جسے اب قانونی کارروائی کے بعد اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر گزشتہ ماہ پیش آنے والے المناک برفانی تودے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والی امریکی کوہ پیما سارہ میلوری گیز کی لاش کو بالآخر خراب موسم بہتر ہونے کے بعد بیس کیمپ سے کامیابی کے ساتھ اسکردو منتقل کردیا گیا ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل ایاز شگری نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی کوہ پیما کی میت کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسکردو لایا گیا جہاں ضلعی انتظامیہ، پولیس، الپائن کلب کے حکام اور طبی عملے نے لاش کو وصول کیا۔ اس سے قبل مقامی رضاکاروں نے انتہائی مشکل حالات اور شدید موسمی چیلنجز کے باوجود انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8,047 میٹر بلند براڈ پیک سے لاش کو تلاش کر کے بیس کیمپ تک پہنچایا تھا، جب کہ اس حادثے کے بعد لاش کی واپسی کا عمل خراب موسم کے باعث عارضی طور پر معطل کرنا پڑا تھا۔ اسکردو پہنچائے جانے کے بعد میت کو کمبائنڈ ملٹری اسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کردیا گیا ہے جہاں تمام ضروری قانونی اور ضابطہ کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے اسلام آباد روانہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یہ ہولناک واقعہ گزشتہ ماہ 30 جولائی کو پیش آیا تھا جب نامور برطانوی نیپالی کوہ پیما نರ್ಮل پرجا کی زیر قیادت بین الاقوامی مہم جوئی کا ایک دس رکنی دستہ براڈ پیک پر شدید برفانی تودے کی زد میں آگیا تھا، جس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا اور بعد میں تمام ارکان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی تھی۔ دریں اثنا، گلگت بلتستان کی ہی دوسری چوٹی سپانتک پر پاکستانی کوہ پیما ڈاکٹر ڈاکٹر عاصمہ مشتاق کی لاش کو نیچے لانے کے لیے بھی ریسکیو آپریشن کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے جو کہ اترائی کے دوران ہائی الٹیٹیوڈ سکنکنس کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث موسم کے حالات دن بہ دن غیر یقینی ہوتے جا رہے ہیں جو کوہ پیماؤں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔