Business
آئی پی پیز کوئلہ خریداری اسکینڈل: 380 ملین روپے کی نااہلیاں بے نقاب
آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی جانب سے درآمد شدہ کوئلے کی خریداری کے عمل میں مالیاتی بے ضابطگیوں اور نااہلیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹس میں تین سو اسی ملین روپے کے مساوی خطیر رقم کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ملک کے توانائی کے شعبے میں ایک بار پھر بڑی مالیاتی بے ضابطگیوں اور نااہلیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی جانب سے درآمد شدہ کوئلے کی خریداری کے دوران تین سو اسی ملین روپے کی نااہلیاں اور خامیاں شناخت کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ کوئلے کی درآمد اور اس کی نقل و حمل کے دوران ہونے والے مالی نقصانات سے جڑا ہوا ہے جس سے ملکی معیشت پر اضافی بوجھ پڑا۔
متعلقہ اداروں اور ماہرین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاور سیکٹر میں اس قسم کی مالی بے ضابطگیاں اور انتظامی نااہلیاں بجلی کے نرخوں میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ درآمد شدہ کوئلے کی خریداری کے عمل میں شفافیت کے فقدان اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کروڑوں روپے کے وسائل ضائع ہوئے ہیں جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کی روشنی میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ اس قسم کے نقصانات سے بچنے کے لیے سخت لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ عوام اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بھی اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور صارفین کو ریلیف فراہم کیا جا سکے