LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کا بحران: کیا زیادہ معلومات بہتر فیصلے دیتی ہیں؟

News Image
معلومات کے موجودہ دور میں کاروبار کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ ڈیٹا اکٹھا کرنا بن گیا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ محض ڈیٹا کا حجم بڑھانے سے کاروباری فیصلے بہتر نہیں ہو رہے۔
معلومات کے اس دور میں تجارت اور کاروبار کا طویل سفر ہمیشہ سے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کی ایک مسلسل جستجو رہا ہے۔ گاہکوں کا ڈیٹا، سیلز کا ریکارڈ، انوینٹری، سسٹمز اور تکنیکی اعداد و شمار کو جمع کرنے کے لیے تجارتی ادارے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔ اس سوچ کے تحت یہ فرض کیا جاتا رہا ہے کہ جتنا زیادہ ڈیٹا کسی ادارے کے پاس ہوگا، اس کی کارکردگی اتنی ہی بہتر ہوگی اور اتنے ہی درست کاروباری فیصلے کیے جا سکیں گے۔ لیکن اب مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایک ایسا خاموش مسئلہ سامنے آ رہا ہے جس پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں جب کاروباری اداروں نے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو اپنے فیصلوں میں شامل کرنا شروع کیا تو یہ بات واضح ہونے لگی کہ محض معلومات کا انبار لگا دینا کافی نہیں۔ مسئلہ اب ڈیٹا کی کمی کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اس ڈیٹا کا معیار اور مطابقت کیا ہے۔ جب غیر متعلقہ، فرسودہ یا کم معیار کا ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کو کھلایا جاتا ہے تو اس سے بہتر فیصلوں کے بجائے الجھنیں اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے بڑے بڑے سسٹمز پر سرمایہ کاری کے باوجود توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروباری رہنماؤں کو اب اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ ڈیٹا جمع کرنے کی اندھی دوڑ کے بجائے اب اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کون سا ڈیٹا اصل میں اہم ہے اور کس طرح اس کو درست انداز میں پروسیس کیا جا سکتا ہے۔ معیاری معلومات کا حصول اور اس کا درست تجزیہ ہی وہ کلید ہے جو مصنوعی ذہانت کو مؤثر بنا سکتی ہے، ورنہ محض معلومات کا ڈھیر صرف مسائل میں اضافے کا باعث بنے گا۔