Business
علی بابا کے شیئرز میں دس فیصد گراوٹ، اے آئی منصوبوں کے لیے فنڈنگ
چینی ای کامرس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے بڑے ادارے علی بابا کے ہانگ کانگ میں شیئرز کی قیمتوں میں دس فیصد تک نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ گراوٹ کمپنی کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو وسعت دینے کے لیے دس ارب دو کروڑ ڈالر کے ریکارڈ شیئر پلیسمنٹ کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
چینی ای کامرس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی دنیا کے معروف ادارے علی بابا گروپ ہولڈنگ کے شیئرز کو ہانگ کانگ کے تجارتی سیشن کے دوران شدید دھچکا لگا ہے جہاں ان کی قیمتوں میں دس فیصد تک کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ کاروباری حلقوں کے مطابق یہ گراوٹ کمپنی کی جانب سے ایک بڑی مالیاتی چال کے طور پر سامنے آئی ہے جس کا مقصد مستقبل کی ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو تقویت دینا ہے۔ کمپنی نے اپنے کلاؤڈ اور اے آئی وژن کو آگے بڑھانے کے لیے اے۔سی۔ایچ۔کے شیئرز کی ریکارڈ سطح پر فروخت کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے بھاری سرمائے کی سویز کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ شیئرز کی اتنی بڑی تعداد مارکیٹ میں لانے سے قلیل مدتی بنیادوں پر حصص کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔ اس ریکارڈ پلیسمنٹ کی مالیت تقریباً اسی ارب ہانگ کانگ ڈالر یعنی دس ارب دو کروڑ امریکی ڈالر کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے جسے کارپوریٹ تاریخ کی بڑی ڈیلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ علی بابا انتظامیہ کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مانگ میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور اس دوڑ میں سب سے آگے رہنے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور جدید ڈیٹا سسٹمز پر بھاری سرمائے کی ضرورت ہے۔ کمپنی اپنے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے نظام کو جدید ترین اے آئی الگورتھمز اور چپس سے لیس کرنا چاہتی ہے تاکہ عالمی سطح پر مائیکروسافٹ، گوگل اور دیگر حریف اداروں کا بھرپور مقابلہ کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کے تحت حاصل ہونے والی رقم براہِ راست تکنیکی ترقی، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر خرچ کی جائے گی۔ اگرچہ ابتدائی طور پر حصص کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے تاہم طویل مدتی سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ علی بابا کا یہ قدم مستقبل کے لحاظ سے ایک فیصلہ کن اور موثر اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شیئر ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ڈیجیٹل اکانومی کے اس نئے دور میں اپنی قیادت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس پیش رفت پر عالمی مالیاتی منڈیوں کی گہری نظر ہے کیونکہ چینی ٹیک انڈسٹری کا مستقبل کافی حد تک علی بابا جیسے بڑے اداروں کی اسٹریٹجک سرمایہ کاری سے جڑا ہوا ہے۔