Business
اسکاٹش نیشنل انویسٹمنٹ بینک کو 138 ملین پاؤنڈز کا خسارہ
اسکاٹش نیشنل انویسٹمنٹ بینک نے مالی سال کے دوران ایک سو اڑتیس ملین پاؤنڈز کے خالص خسارے کا اعلان کیا ہے۔ اس مالی نقصان کی بڑی وجہ بینک کی ابتدائی سرمایہ کاریوں کا ناکام ہونا اور ان میں ہونے والے نقصانات ہیں۔
اسکاٹش نیشنل انویسٹمنٹ بینک نے اپنے مالیاتی کھاتوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران ادارے کو ایک سو اڑتیس ملین پاؤنڈز کا بھاری خالص خسارہ برداشت کرنا پڑا۔ سرکاری تحویل میں چلنے والے اس ادارے کی طرف سے جاری کردہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق اس خسارے کے پیچھے بنیادی وجوہات میں ان کی ابتدائی سرمایہ کاریوں کا ناکام ہونا شامل ہے، جن میں بینک کی پہلی سرمایہ کاری بھی تھی۔ ماہرین معیشت کے لیے یہ رپورٹ کافی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بینک نے حال ہی میں اپنے کاروباری سفر کا آغاز کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بینک کو جن ابتدائی پراجیکٹس میں شدید مالی دھچکا لگا ہے ان میں گلاسگو سے وابستہ ایک اہم سرمایہ کاری بھی شامل ہے جو کہ اس ادارے کی تاریخ کا پہلا بڑا قدم تھا۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر تین ابتدائی پراجیکٹس توقعات کے برعکس ناکام ہو گئے یا مالی بحران کا شکار ہو گئے، جس کے براہ راست اثرات بینک کے مجموعی سالانہ نتائج پر مرتب ہوئے۔ ریاستی سرمائے سے چلنے والے اس ادارے کو شروع میں ہی اتنے بڑے پیمانے پر خسارہ ہونے سے معاشی حلقوں میں بھی بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے فیصلوں کے دوران مزید احتیاط برتی جائے۔
دوسری جانب بینک کی انتظامیہ اور ذمہ داران کا کہنا ہے کہ نئے اور ابھرتے ہوئے اداروں بالخصوص پبلک سیکٹر کی سرمایہ کاری میں اس قسم کے ابتدائی خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ وہ طویل مدتی اقتصادی ترقی، صاف ستھری توانائی اور فلاحی منصوبوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں اور ان ابتدائی نقصانات کے باوجود اسکاٹش معیشت کو استحکام دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ بینک کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے حکمت عملی کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ رسک مینجمنٹ کو مضبوط بنایا جا سکے۔