World
چینی نایاب معدنیات سے جان چھڑانا مشکل، جاپان کی کہانی
امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاہدے کی معیاد ختم ہونے سے پہلے واشنگٹن چینی معدنیات پر انحصار ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جاپانی تجربہ بتاتا ہے کہ گلوبل سپلائی چین سے چینی نایاب زمینوں کو نکالنا انتہائی پیچیدہ اور طویل عمل ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی معاہدے کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چینی نایاب زمینوں پر انحصار ختم کرنے کے لیے بے چین دکھائی دے رہی ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے لیے ناگزیر ان نایاب معدنیات کے معاملے پر چین کی اجارہ داری نے مغربی ممالک کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ امریکی کوششیں اپنی جگہ لیکن اس چیلنج کی اصل حقیقت کو سمجھنے کے لیے جاپان کا ماضی کا تجربہ سب سے بڑا اور واضح ثبوت فراہم کرتا ہے۔ کئی سال قبل بھی ایسے ہی بحران کے دوران جاپان نے چین پر اپنا انحصار کم کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جاپانی صنعت کاروں اور حکومتی اداروں کو اندازہ ہوا کہ نایاب معدنیات کے متبادل ذرائع تلاش کرنا اور ان کی ریفائننگ کے لیے نئے کارخانے لگانا کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور طویل وقت کا متقاضی ہے۔ عالمی منڈی میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ محض سیاسی بیانات یا عارضی فیصلوں سے اس سپلائی چین کو راتوں رات نہیں بدلا جا سکتا۔ نایاب زمینیں نہ صرف اسمارٹ فونز اور کمپیوٹرز بلکہ لڑاکا طیاروں اور میزائل سسٹمز کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے لیے ان معدنیات کے حصول میں خود کفالت حاصل کرنا ایک کٹھن امتحان بن چکا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ چین کی اس اجارہ داری کو توڑنے کے لیے مغربی ممالک کو باہم مل کر طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی، بصورت دیگر چین کا دباؤ برقرار رہے گا۔ موجودہ عالمی صورتحال میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اس تجارتی کشمکش سے نکلتی ہے اور کیا وہ جاپان کی طرح اس دلدل میں پھنسنے سے بچ پاتی ہے یا نہیں۔