LIVE
Loading Breaking News...

این্ডি برنہم زیلنسکی کا پیغام ٹرمپ تک پہنچائیں گے

News Image
برطانوی سیاستدان این্ডি برنہم نے یوکرین کے دورے کے دوران صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی اور ان کے مطالبات کو امریکی انتظامیہ تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا۔ اس دورے کا مقصد جنگ سے متاثرہ ملک کے ساتھ برطانیہ کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔
برطانوی رہنما این্ডি برنہم نے یوکرین کے دورے کے دوران صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی ہے جس میں یوکرین کے دفاعی مطالبات اور موجودہ جنگی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دورے کے دوران یوکرین کے یومِ آزادی کی تقریبات میں شرکت کی گئی اور برطانیہ کی جانب سے یوکرین کے لیے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ این্ডি برنہم نے یقین دلایا کہ وہ صدر زیلنسکی کے اہم پیٹریاٹ میزائلوں کے حصول کے مطالبات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچائیں گے تاکہ یوکرین کے دفاع کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ دوسری جانب کریملن کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کے ڈرون کارخانے نامعلوم ذرائع سے حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں، جس سے خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ روس اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں اور حالیہ دنوں میں روس نے لندن سے اپنے سفیر کو بھی واپس بلا لیا ہے۔ ان تمام سفارتی اور دفاعی پیش رفت کے باوجود برطانوی حکومت نے یوکرین کے لیے اپنی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور حالیہ دوروں کا مقصد اسی عزم کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ ادھر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے یوکرین کو خفیہ میزائل ٹیکنالوجی تک رسائی دینے سے زمینی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برطانوی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ یوکرین کی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یوکرین کے لیے بین الاقوامی سطح پر عسکری و سفارتی امداد کا یہ سلسلہ ایسے وقت میں جاری ہے جب جنگ اپنے انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور عالمی رہنما اس بحران کے حل کے لیے مختلف سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔