Pakistan
لاہور ہائیکورٹ کا ضمانت کے مقدمات میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ پر اہم بیان
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے ایک اہم ریمارکس میں واضح کیا ہے کہ قانونی تنازعات اور ضمانت کے مقدمات میں فریقین کے درمیان عدالت سے باہر صلح کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف عدالتی بوجھ کم ہو سکتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی کارروائی اور مقدمات کے فوری حل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ضمانت کے مختلف مقدمات میں عدالت سے باہر تفیصل یا صلح کے امکانات کو سنجیدگی سے مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔ عدالت کا ماننا ہے کہ تمام تنازعات کو صرف سزاؤں اور طویل قانونی لڑائیوں کے ذریعے حل کرنا ہمیشہ بہترین حکمت عملی نہیں ہوتی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس قسم کے ریمارکس سے زیر التوا مقدمات کی بھاری تعداد میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ بہت سے خاندانی، مالی یا معمولی نوعیت کے تنازعات میں اگر فریقین باہمی رضامندی سے کسی معاہدے پر پہنچ جائیں تو عدالتوں کے قیمتی وقت کا ضیاع روکا جا سکتا ہے اور جیلوں میں قیدیوں کا دباؤ بھی کم ہو سکتا ہے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں واضح کیا کہ قانون کا بنیادی مقصد معاشرتی امن اور انصاف کی فراہمی ہے، اور اگر فریقین خود تنازعہ ختم کرنے پر رضا مند ہوں تو عدالتیں اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف لوگوں کے درمیان دیرینہ دشمنیاں ختم ہوتی ہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی صلح جوئی کا ماحول پروان چڑھتا ہے۔