Pakistan
میر رضا علی قتل کیس: سندھ ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی کی تشکیل کی درخواست پر نوٹس
کراچی میں میر رضا علی کے قتل کے بعد شروع ہونے والے احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں اہل خانہ کی جانب سے جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی بنانے کی درخواست پر متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
کراچی میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے تاجر میر رضا علی کے معاملے میں قانونی اور عدالتی کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔ اہل خانہ کی طرف سے اس مقدمے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے تاکہ واقعے کے اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
دوسری جانب اس واقعے کے تین ہفتے گزر جانے کے باوجود کراچی میں nightly احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ شہری اور ورثا میر رضا علی کے قتل کے ذمہ داروں کی فوری گرفتاری اور انصاف کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ جدید سائنسی اور تکنیکی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے میر رضا کے قتل سے قبل کے آخری گھنٹوں اور ان کی موت کے اسباب کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ کیس کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل ایک پاکستانی عدالت نے کراچی کے اس معروف تاجر کی موت کی تحقیقات اور پولیس کی تفتیشی کارروائی کا جائزہ لینے کے لیے ایک جج کو بھی مقرر کیا تھا تاکہ معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی کی گنجائش نہ رہے۔ ورثا کا اصرار ہے کہ پولیس کی ابتدائی کارروائی سے ہٹ کر ایک بااختیار جے آئی ٹی ہی اس گھنائونے جرم کے اصل محرکات کو بے نقاب کر سکتی ہے۔ عدالت کی جانب سے نوٹسز جاری ہونے کے بعد اب اس مقدمے میں مزید اہم قانونی پیش رفت متوقع ہے، جبکہ انصاف کے حصول کے لیے شہریوں کا دباؤ بھی برقرار ہے۔