LIVE
Loading Breaking News...

معمر خاتون پر تشدد: سنگدل کیئر ورکر کا مکروہ فعل اور عدالت کا فیصلہ

News Image
برطانیہ میں ایک معمر خاتون کے ساتھ بدتمیزی اور ذہنی تشدد کرنے والی ظالم کیئر ورکر کو عدالت نے سزا سنا دی ہے۔ اس خوفناک تجربے کے بعد متاثرہ معمر خاتون شدید صدمے کا شکار ہیں اور اب وہ کسی بھی وقت اکیلی رہنے سے ڈرتی ہیں۔
برطانیہ میں انسانیت کو شرما دینے والا ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک کیئر ورکر، جس کی ذمہ داری معمر اور کمزور افراد کی دیکھ بھال کرنا تھی، نے مبینہ طور پر اپنی پناہ میں موجود ایک بے بس معمر خاتون کو شدید ذہنی اور جذباتی صدمے سے دوچار کیا۔ اس سنگدل کیئر ورکر، جس کی شناخت لوئس ہیرس کے طور پر ہوئی ہے، نے الزبتھ این شپٹن نامی معمر خاتون پر چلاتے ہوئے انتہائی توہین آمیز اور ظالمانہ الفاظ استعمال کیے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے معمر خاتون کو بدترین گالیاں دیں اور دھمکیاں دیں کہ وہ خواب میں ہی مر جائیں۔ اس بہیمانہ رویے نے معمر خاتون کی نفسیاتی صحت پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کیے۔ عدالت میں پیش کیے گئے حقائق سے انکشاف ہوا کہ یہ واقعہ انتہائی تکلیف دہ تھا اور اس سے بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ اس المناک واقعے کے بعد متاثرہ معمر خاتون اس قدر شدید صدمے سے دوچار ہو چکی ہیں کہ وہ اب گھر میں ایک لمحے کے لیے بھی اکیلی رہنے کی سکت نہیں رکھتی ہیں۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق، وہ اب ہر وقت کسی نہ کسی خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا رہتی ہیں، کیونکہ جس شخص پر انہوں نے بھروسہ کیا تھا، اسی نے ان کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک کیا۔ قانونی کارروائی کے دوران عدالت نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ جو لوگ معاشرے کے کمزور طبقے کی خدمت کے لیے مامور ہیں، اگر وہی اس طرح کی جارحیت اور سنگدلی کا مظاہرہ کریں گے تو معاشرتی اقدار کا زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف متاثرہ افراد کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں بلکہ ان کے خاندان کے افراد کے لیے بھی ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ اس کیس نے کیئر ہومز اور نگہداشت کے اداروں میں سخت مانیٹرنگ اور اہلکاروں کی اسکریننگ کے عمل کو مزید شفاف بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔