LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں سیٹلائٹ لانچنگ کی لاگت امریکہ سے زیادہ، کیمبرج کی تحقیق سامنے آگئی

News Image
کیمبرج یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق کے مطابق بھارت میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے اخراجات امریکہ کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہیں۔ تاہم، بھارتی حکومتی ذرائع نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے سبسڈیز اور اسٹریٹجک بچت کے فوائد پر زور دیا ہے۔
کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی اور تفصیلی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں سیٹلائٹ لانچ کرنے کے اخراجات دنیا کی دیگر اہم مارکیٹوں، بالخصوص امریکہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق، بھارتی خلائی مشنز پر لاگت امریکہ کے مقابلے میں تقریباً چار گنا تک زیادہ بیٹھتی ہے، جس نے عالمی خلائی صنعت میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ مطالعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نجی شعبے کی خلائی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، اس تحقیقی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد بھارتی حکومتی ذرائع اور متعلقہ حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کیمبرج کے اس مطالعے اور اس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق، بھارت کے خلائی پروگرام میں مقامی وسائل کے استعمال، حکومتی سبسڈیز اور اسٹریٹجک بچت کے وہ طویل مدتی فوائد شامل ہیں جو اس قسم کے مطالعات میں اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ محکمہ خلائی امور کا کہنا ہے کہ بھارتی خلائی تحقیقی ادارے نے ہمیشہ کم لاگت اور انتہائی مؤثر مشنز کے ذریعے دنیا کو حیران کیا ہے، اور حالیہ برسوں میں نجی کمپنیوں کے لیے بھی خلائی منڈی کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے نہ صرف مسابقت بڑھے گی بلکہ لاگت میں مزید کمی لانے کے لیے نئے راستے بھی ہموار ہوں گے، جس سے مجموعی طور پر خلائی صنعت کو وسعت ملے گی۔