Technology
ریٹرو ٹیکنالوجی اور جنریشن زیڈ کا رجحان
نئی نسل ڈیجیٹل اسمارٹ فونز اور مہنگی اسٹریمنگ سروسز سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے پرانی ریٹرو ٹیکنالوجی کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ڈیجیٹل کیمرے، ایم پی تھری پلیئرز اور تار والے ہیڈ فونز نوجوانوں میں دوبارہ مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی انتہائی ترقی یافتہ ہو چکی ہے اور ہر ہاتھ میں جدید ترین اسمارٹ فون موجود ہے، وہیں ایک حیرت انگیز رجحان یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ نوجوان نسل بالخصوص 'جنریشن زیڈ' پرانی اور روایتی ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے واپس آ رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ اچھے کیمروں، الگ میوزک پلیئرز اور تار والے ہیڈ فونز سے جان چھڑا کر سب ਕੁਝ ایک ہی اسمارٹ فون میں سمونا چاہتے تھے، مگر اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوان اب اسمارٹ فونز اور مسلسل آن لائن رہنے کی تھکن سے عاجز آ چکے ہیں اور پرانی ریٹرو اشیاء کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ اس رجحان کے تحت نوے کی دہائی اور دو ہزار کی ابتدائی دہائی کے ڈیجیٹل کیمرے، ایم پی تھری پلیئرز اور روایتی وائرڈ ہیڈ فونز کی مانگ میں اچانک زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کی مستقل نوٹیفیکیشنز اور اسکرین کے طویل استعمال سے ذہنی سکون حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پرانے ڈیجیٹل کیمروں سے کھینچی گئی تصاویر میں ایک خاص پرانا اور منفرد انداز ہوتا ہے جو آج کے جدید ترین اسمارٹ فونز کے اے آئی فلٹرز میں نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ، الگ سے ایم پی تھری پلیئرز کا استعمال نوجوانوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی خلفشار سے آزاد موسیقی سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب، وائرڈ ہیڈ فونز کا فیشن بھی واپس آ چکا ہے جنہیں اب ایک نئے فیشن اسٹیٹمنٹ کے طور پر اپنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ ریٹرو واپسی دراصل ڈیجیٹل ڈیٹوکس کی ایک قسم ہے، جہاں نوجوان تیز رفتار آن لائن دنیا سے کچھ دیر کے لیے فرار حاصل کر کے ماضی کی سادگی اور سکون کو دوبارہ جینا چاہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس رجحان کے مزید پھیلنے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ کمپنیاں بھی اب مارکیٹ میں پرانے انداز کی مصنوعات متعارف کرانے لگی ہیں۔