LIVE
Loading Breaking News...

شوبز میں انتہائی لاغری کا رجحان اور سلیبرٹی کلچر کی حقیقت

News Image
موجودہ دور میں شوبز اور فیشن کی دنیا میں انتہائی لاغری اور پتلے پن کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جسمانی شرمندگی کے خوف سے اس خطرناک رجحان پر کھل کر تنقید کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر سلیبرٹی کلچر میں ایک بار پھر انتہائی لاغری یعنی ’اسکن فیکیشن‘ کا رجحان تیزی سے واپس آ رہا ہے، جس نے ماہرینِ صحت اور شوبز کے تجزیہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ فیشن انڈسٹری اور میڈیا میں پتلے پن کے اس بڑھتے ہوئے معیار کو نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس رجحان کو دوبارہ فروغ دینے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں اور اس کا معاشرے پر کیا منفی اثر پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب، اس موضوع پر ایک طویل بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا مشہور شخصیات کے جسمانی حجم پر بات کرنا ’باڈی شمنگ‘ یا جسمانی شرمندگی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ سلیبرٹیز بھی انسان ہیں اور ان پر اس طرح کی تنقید کرنا نامناسب ہے، جبکہ ناقدین کا اصرار ہے کہ پبلک فگرز کی جانب سے غیر صحت مندانہ لاغری کو معمول کے طور پر پیش کرنا عام لوگوں خصوصاً نوجوانوں میں غذائی خرابیوں اور نفسیاتی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔ میڈیا اور یونیورسٹی کے مباحثوں میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ فیشن انڈسٹری کو صحت مند جسمانی سانچوں کو فروغ دینا چاہیے۔ جب تک اس خطرناک ثقافت پر کھل کر تنقید نہیں کی جائے گی، تب تک اس رجحان کے منفی اثرات کو کم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ معاشرے کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ظاہری خوبصورتی کے نام پر صحت کو داؤ پر لگانا کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔